سعودی عرب میں پاکستانی ہنرمندوں کی مانگ میں تیز اضافہ، دوطرفہ منصوبہ بندی تیز
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد دوطرفہ تعلقات میں ایک نئی جہت سامنے آئی ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ سعودی عرب کو افرادی قوت کی برآمدات دوگنی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے بلکہ سعودی عرب میں بڑھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہنرمند پاکستانیوں کو مؤثر انداز میں شامل کرنا بھی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران تقریباً 18 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے مواقع حاصل کر چکے ہیں، جو 2015 سے 2019 کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر تعمیراتی، انجینئرنگ، اور تکنیکی شعبوں میں۔
پاکستانی معیشت کے لیے یہ پیش رفت نہایت اہم ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانیوں سے آنے والی ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ سعودی عرب ہی ہے۔ 2020 میں سعودی عرب سے 7.
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے، نئے شہروں کی تعمیر، انفرا اسٹرکچر کی توسیع اور 2034 کے فیفا ورلڈکپ کی میزبانی کی تیاری نے ہنرمند افرادی قوت کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
سعودی حکومت اس بڑے پیمانے کے منصوبوں میں تعمیراتی ماہرین، انجینئرز، الیکٹریشنز، ڈرائیورز، مکینک اور دیگر فنی عملے کی بھرتی میں دلچسپی رکھتی ہے ، جن میں پاکستانی ورکرز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
حکومت پاکستان نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے جو سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے حکمتِ عملی طے کرے گی۔
کمیٹی میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے نمائندے شامل ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، تربیت اور افرادی قوت کی برآمدات سے متعلق پالیسیوں کی نگرانی کریں گے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ بھی سعودی حکام کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کے تحت دونوں ممالک میں ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیے جائیں گے۔ ان اداروں کا مقصد پاکستانی مزدوروں کی فنی مہارت میں اضافہ اور سعودی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مؤثر طور پر نافذ ہو گیا تو اگلے چند سالوں میں پاکستان نہ صرف ترسیلاتِ زر میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا بلکہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افرادی قوت کی میں پاکستانی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔