سندھ کا مقابلہ دنیا سے ہے، کسی شہر یا صوبے سے نہیں، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ کا مقابلہ پاکستان کے کسی شہر یا صوبے سے نہیں بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ہے۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی کی ترقیاتی پالیسیوں کا دائرہ اب عالمی معیار تک پہنچ چکا ہے، اور یہی پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔
تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو لکھتے ہیں، اور بینظیر بھٹو بھی انہی میں شامل تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں دو سے زائد کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو بھی تاکید کی کہ وہ اپنے تجربات اور خدمات کو تحریری شکل دیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے یہ رہنمائی کا ذریعہ بنے۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں خیرپور میں جو اسپیشل اکنامک زون قائم کیا گیا، اسے دنیا کے معروف جریدے فنانشل ٹائمز نے بہترین اکنامک زون قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ کامیابی اس وژن کی عکاسی کرتی ہے جو پیپلزپارٹی ہمیشہ سے لے کر چلتی آئی ہے۔
بلاول بھٹوزرداری نے اس موقع پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ماڈل کا بھی ذکر کیا، جو سب سے پہلے شہید بینظیر بھٹو نے 1993 میں پارٹی کے منشور میں متعارف کروایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آج دنیا اس ماڈل کو تسلیم کرتی ہے اور اس حوالے سے سندھ عالمی رینکنگ میں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے زور دے کر کہا کہ ہمیں آپس میں مقابلہ بازی یا تقسیم کی بجائے، ایک قوم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آنا چاہیے۔ “اگر پاکستان کا کوئی بھی خطہ ترقی کرتا ہے تو یہ ہم سب کی کامیابی ہے، اور ہمیں ایک دوسرے کے کاموں پر فخر کرنا چاہیے۔”
انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق یہ پروگرام دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے، اور بطور وزیر خارجہ جب وہ مختلف ممالک کے دورے پر تھے، تو کئی ممالک نے ان سے کہا کہ وہ اس پروگرام کو اپنے ہاں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
بلاول نے واضح کیا کہ یہ پروگرام صرف امداد نہیں بلکہ غریب طبقے کی فلاح کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کورونا وبا کے دوران، جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو انہوں نے اسی پروگرام کو “احساس پروگرام” کے نام سے جاری رکھا اور اسی ذریعے سے امداد پہنچائی گئی۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا بھی ذکر کیا، جب سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب شدید متاثر ہوئے تھے، اور اس وقت وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرین کی مالی مدد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سہارا لیا۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
اُن عناصر کا احتساب ہونا چاہئے جو صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے حامی تھے، سید عباس عراقچی
اپنے ایک خطاب میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جرمنی کو چاہئے کہ وہ اُن کمپنیوں اور عناصر کیخلاف جامع تحقیقات کرے جو صدام کے جرائم میں سہولت کاری کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ روز "ہالینڈ" کے شہر "ہیگ" میں کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کے کنونشن کے رکن ممالک کا 30ویں اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے شركت كی اور خطاب بھی کیا۔ آج اپنی گفتگو كے چند تراشوں كو سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے كی سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ ایران کا اتفاقِ رائے سے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن منتخب ہونا، اُن سب کرداروں کے لیے ایک بامعنی قدم ہے جو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک دنیا پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدام حکومت کے کیمیائی حملوں سے شدید نقصان اٹھانے کی وجہ سے ایران، اپنے چہرے پر دائمی زخم رکھتا ہے جو اب بھی ہزاروں متاثرین اور اُن کے خاندانوں کے لیے درد و رنج کا باعث ہے۔ سید عباس عراقچی نے بیان کیا کہ اس کانفرنس میں "سردشت" کی غیور عوام کے نمائندے جناب "کمال حسین پور" بھی میرے ساتھ تھے۔ سردشت وہ شہر ہے جو دنیا بھر میں استقامت، درد و رنج اور انصاف کے مطالبے کی علامت ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ سردشت کی عوام نے کیمیائی حملوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ جن میں امریکہ کی وہ غیرمنصفانہ پابندیاں شامل ہیں جنہوں نے اس وقت صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جب ہم پر کیمیکل ہتھیاروں سے متاثرین کے لئے ضروری ادویات اور طبی امداد کی رسائی محدود کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب سچائی کو سامنے لانا ہوگا اور ان لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا جنہوں نے صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو سپورٹ کیا۔ اس حوالے سے ڈچ حکام کی وہ عدالتی تحقیقات قابل تعریف ہیں جس کے نتیجے میں ایک ڈچ شہری کی گرفتاری عمل میں آئی اور اسے سزا ہوئی۔ تاہم اس گھناونے جرم کے مقابلے میں یہ بہت چھوٹا قدم ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جرمنی سے اپنی گزشتہ تحقیقات کے نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو چاہئے کہ وہ اُن کمپنیوں اور عناصر کے خلاف جامع تحقیقات کرے جو صدام کے جرائم میں سہولت کاری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہم امریکہ و برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کا ٹرائل شروع کرنے پر بھی زور دیتے ہیں جو صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کے جنون میں برابر کے شریک تھے۔