WE News:
2026-07-24@13:21:24 GMT

زیرِ سمندر اسکوٹر رائیڈنگ کا انوکھا اور دلچسپ تجربہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

زیرِ سمندر اسکوٹر رائیڈنگ کا انوکھا اور دلچسپ تجربہ

کیریبین کے دلکش جزیرے کیوراساؤ کے نیلگوں اور شفاف پانیوں میں دوستوں کے ایک گروپ نے ایک یادگار اور منفرد تجربہ حاصل کیا، جب انہوں نے زیرِ آب اسکوٹر پر سوار ہو کر سمندر کی تہہ کا سفر کیا۔

یہ جدید ’انڈر واٹر اسکوٹر‘ ببل ہیلمٹ کے ساتھ اس طرح تیار کی گئی ہے کہ سوار آسانی سے سانس لے سکتے ہیں اور قریباً 10 سے 15 فٹ گہرائی تک سمندر کی دنیا کا قریب سے نظارہ کر سکتے ہیں۔ کسی خاص تربیت کی ضرورت نہ ہونے کے باعث، یہ سرگرمی سیاحوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: سمندر سے 3 صدی پرانا ہسپانوی خزانہ دریافت، خوبصورت تاریخ تازہ ہوگئی

زیرِ آب سفر کے دوران دوستوں نے چمکتے مرجان، رنگ برنگی مچھلیاں، اور لہروں کے ساتھ جھومتے سمندری پودے دیکھے۔ اردگرد تیرتی مخلوقات اور روشنی کے جھلملاتے عکسوں نے اس تجربے کو خواب جیسا بنا دیا۔

آبی اسکوٹر سواروں کے مطابق یہ لمحہ ایسا لگا جیسے کسی دوسری دنیا میں ہوں، جہاں صرف سکون اور قدرت کی خاموش خوبصورتی موجود ہو۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کا ’سمندروں کا آئین‘ جنوری 2026 سے نافذ ہوجائے گا

کیوراساؤ کے شفاف پانی اور متنوع سمندری حیات اس جزیرے کو سیاحت کے شوقین افراد کے لیے جنت بتاتے ہیں۔ زیرِ آب اسکوٹرنگ نہ صرف محفوظ اور ماحول دوست ہے بلکہ یہ ایکو ٹورازم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، کیونکہ یہ لوگوں کو قدرت کے قریب لانے کا نیا اور دلکش ذریعہ بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

زیرِ سمندر اسکوٹر رائیڈنگ سمندر کیریبین کے دلکش جزیرے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کیریبین کے دلکش جزیرے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟