تحریک لبیک کے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آپریشن کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت کے مذاکرات کامیاب نہ ہونے پر وفاق سے5 سو پولیس اہلکار و افسران کو بھیجنے کا فیصلہ
پولیس اہلکار و افسران، بکتر بند گاڑیاں، نفری اینٹی رائٹ کٹس سمیت لاہور بھیجنے کیلئے الرٹ کردی گئی
حکام کے مذاکرات کامیاب نہ ہونے پر مذہبی جماعت کے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آپریشن کا امکان ظاہر کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک سے پنجاب حکومت کے مذاکرات کامیاب نہ ہونے پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آپریشن کا امکان ہے، اس مقصد کے لیے وفاق سے بھی 5 سو پولیس اہلکار و افسران کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں 8 بکتر بند گاڑیاں اور نفری اینٹی رائٹ کٹس سمیت پولیس ہیڈ کوارٹر میں لاہور بھیجنے کیلئے الرٹ کر دی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی، دوران ملاقات ملک کی مجموعی داخلی سلامتی، امن وامان کی صورتحال، انسداددہشتگردی کے اقدامات، اور سیکیورٹی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے مربوط اور مؤثر اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، شہباز شریف نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ کیلئے ا
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن