data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث کئی روز سے بند جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر شہریوں کو درپیش مشکلات میں کچھ کمی آئی ہے، انتظامیہ نے عوامی سہولت کے پیشِ نظر کئی شاہراہوں اور گلیوں کو جزوی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کے باعث شاہراہوں پر اب بھی متعدد مقامات پر کنٹینرز کھڑے ہیں، شہریوں کے شدید ردعمل اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے کچھ اہم راستے کھول دیے ہیں، راولپنڈی کے رہائشی علاقوں کو جانے والے راستے اب عام ٹریفک کے لیے کھلے ہیں جبکہ مری روڈ سے متصل گلیوں میں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

اسلام آباد میں ایکسپریس وے اور نائنتھ ایونیو سے ڈبل روڈ کو ملانے والا راستہ بھی جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ تاہم آئی جی پی روڈ اور وفاقی دارالحکومت کو راولپنڈی سے ملانے والا فیض آباد انٹرچینج بدستور سیل ہے، جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

موٹروے پولیس کے مطابق ایم 2 موٹروے لاہور تا اسلام آباد ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے اور آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ راولپنڈی ٹریفک پولیس نے نئے پلان کے تحت بتایا ہے کہ 43 بند مقامات میں سے 6 مکمل جبکہ 35 کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس اور لوکل ٹرانسپورٹ اب بھی بند ہے، جس کے باعث ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے۔

گزشتہ روز مختلف مقامات پر شہریوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے۔ سڑکوں پر ایمبولینسیں پھنس گئیں اور مریضوں کے لواحقین راستہ مانگتے رہے۔ ایک بچے کی والدہ رو رو کر دہائی دیتی رہیں مگر اسپتال تک پہنچ نہ سکیں، جبکہ ایک ضعیف مریض کو حالت بگڑنے پر ایمبولینس میں ہی ڈرِپ لگائی گئی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق تحریک لبیک  پاکستان  ( ٹی ایل پی ) نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی واقعات کے دوران 17 کارکنان شہید اور کئی درجن زخمی ہوئے ہیں جب کہ پولیس نے صرف 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد زخمی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان اسلام آباد کی جانب مارچ کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں پیشرفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جزوی طور پر اسلام آباد کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل