مذہبی جماعت کا مارچ: فیض آباد انٹرچینج بدستور بند، دیگر سڑکیں جزوی طور پر کھول دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث کئی روز سے بند جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر شہریوں کو درپیش مشکلات میں کچھ کمی آئی ہے، انتظامیہ نے عوامی سہولت کے پیشِ نظر کئی شاہراہوں اور گلیوں کو جزوی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کے باعث شاہراہوں پر اب بھی متعدد مقامات پر کنٹینرز کھڑے ہیں، شہریوں کے شدید ردعمل اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے کچھ اہم راستے کھول دیے ہیں، راولپنڈی کے رہائشی علاقوں کو جانے والے راستے اب عام ٹریفک کے لیے کھلے ہیں جبکہ مری روڈ سے متصل گلیوں میں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں ایکسپریس وے اور نائنتھ ایونیو سے ڈبل روڈ کو ملانے والا راستہ بھی جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ تاہم آئی جی پی روڈ اور وفاقی دارالحکومت کو راولپنڈی سے ملانے والا فیض آباد انٹرچینج بدستور سیل ہے، جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق ایم 2 موٹروے لاہور تا اسلام آباد ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے اور آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ راولپنڈی ٹریفک پولیس نے نئے پلان کے تحت بتایا ہے کہ 43 بند مقامات میں سے 6 مکمل جبکہ 35 کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس اور لوکل ٹرانسپورٹ اب بھی بند ہے، جس کے باعث ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے۔
گزشتہ روز مختلف مقامات پر شہریوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے۔ سڑکوں پر ایمبولینسیں پھنس گئیں اور مریضوں کے لواحقین راستہ مانگتے رہے۔ ایک بچے کی والدہ رو رو کر دہائی دیتی رہیں مگر اسپتال تک پہنچ نہ سکیں، جبکہ ایک ضعیف مریض کو حالت بگڑنے پر ایمبولینس میں ہی ڈرِپ لگائی گئی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی ) نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی واقعات کے دوران 17 کارکنان شہید اور کئی درجن زخمی ہوئے ہیں جب کہ پولیس نے صرف 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد زخمی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان اسلام آباد کی جانب مارچ کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں پیشرفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جزوی طور پر اسلام آباد کے مطابق گیا ہے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔