راولپنڈی اور اسلام آباد میں تیسرے روز بھی سڑکیں بند، موبائل انٹرنیٹ سروس جزوی بحال
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں تیسرے روز بھی متعدد سڑکیں بند ہیں، تاہم موبائل فون اور سیلولر انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کر دی گئی۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث تیسرے روز بھی معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں، مختلف شاہراہوں اور داخلی راستوں کی بندش کے سبب شہریوں کو آمد و رفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ میٹرو بس سروس بدستور تاحکم ثانی معطل ہے۔
راولپنڈی کے اندرون شہر رہائشی علاقوں کو جانے والے راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں جبکہ مری روڈ سے ملحقہ علاقوں کی گلیوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں، تاہم راولپنڈی اسلام آباد کی اہم شاہراہیں تاحال بند ہیں، مری روڈ، فیض آباد، ایکسپریس وے اور آئی جے پی روڈ تاحال بند ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد میں مذہبی جماعت کا احتجاج، سیکیورٹی ہائی الرٹ، راستے اور موبائل انٹرنیٹ سروس بند
ذرائع کے مطابق راولپنڈی ایئرپورٹ جانے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں برقرار ہیں، جس کے باعث شہر میں پیدل چلنے کے راستے بھی بند ہیں، راستوں کی بندش سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اسپتالوں تک پہنچنا بھی مشکل ہوگیا۔
موٹروے پولیس کے مطابق ایم 2 موٹروے لاہور تا اسلام آباد ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے، جس کے بعد ٹریفک کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
اسلام آباد ایکسپریس وے بھی ٹریفک کے لیے جزوی کھول دی گئی، نائنتھ ایونیو سے ڈبل روڈ کو ملانے والا راستہ بھی جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی کی جانب سے فیض آباد جانے والا راستہ تاحال بند ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل فون اور سیلولر انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروس اسلام آباد
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔