قوم استقبال کے لیے بے قرار ہے؛ سابق سینیٹر مشتاق احمد ملک کب واپس آئیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر اور جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد خان کی وطن واپسی سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ دفترِ خارجہ نے مشتاق احمد خان کی 9 اکتوبر کو پاکستان واپسی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ملائیشیا سے اسلام آباد روانگی کے بعد اردن کے دارالحکومت عمان میں پاکستان کے سفیر کے ذریعے مشتاق احمد خان سے فون پر بات ہوئی۔ ان کے مطابق مشتاق احمد خیریت سے ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔
اسحاق ڈار نے صمود فلوٹیلا میں حصہ لینے پر سینیٹر مشتاق کی جرات اور ثابت قدمی کو سراہا اور کہا کہ غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امداد پہنچانے کی ان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سینیٹر مشتاق نے دفترِ خارجہ اور عمان میں پاکستانی سفارتخانے کی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جو غزہ کے محصور فلسطینیوں کی مدد کے لیے اسپین سے روانہ ہوا تھا، تاہم اسرائیلی بحریہ نے کارکنوں کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی گرفتار کر لیا تھا۔
اپنے آفیشل فیس بک پیغام میں مشتاق احمد خان نے بتایا کہ وہ اپنے 150 ساتھیوں کے ہمراہ اردن پہنچ چکے ہیں اور اسرائیل کی بدنامِ زمانہ نیگیو جیل میں پانچ روز قید رہنے کے بعد انہیں رہائی مل گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشتاق احمد خان
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔