’الحمدللہ، پاکستان کے لیے ایک اور گولڈ میڈل‘ آئندہ بھی مزید کامیابیاں آئیں گی، ارشد ندیم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پاکستان کے ایتھلیٹ اولمپیئن ارشد ندیم نے اسلامی یکجہتی گیمز میں جیولن تھرو کے فائنل میں لمبی تھرو کرکے ملک کے لیے ایک اور گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔
ارشد ندیم نے فتح کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ الحمدللہ، خوش ہوں کہ پاکستان کے لیے ایک اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا، سرجری کے بعد مکمل صحت حاصل کرنے کے لیے اب بھی سخت محنت کر رہا ہوں، لیکن جیتنے کی لگن برقرار ہے۔ آئندہ مقابلوں میں بھی مزید کامیابیاں آئیں گی، ان شا اللہ۔
Alhamdulillah, grateful to bring home another gold for Pakistan! Still working hard to get back to 100% after surgery, but the hunger to win remains! More to come in the next tournaments, Insha’Allah! pic.
— Arshad Nadeem (@ArshadOlympian1) November 19, 2025
سعودی عرب میں منعقدہ اسلامی یکجہتی گیمز میں ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے فائنل میں سب سے دور تھرو کرکے ملک کے لیے گولڈ میڈل جیتا۔ فائنل میں 7 ایتھلیٹس شریک تھے۔
ارشد ندیم نے پہلی تھرو میں 75.44 میٹر، دوسری میں 83.5 میٹر، تیسری میں 82.48 میٹر اور چوتھی میں 77.6 میٹر کی دوری طے کی۔ پاکستان کے محمد یاسر نے دوسری پوزیشن حاصل کرکے چاندی کا تمغہ جیتا، جن کی بہترین تھرو 74.40 میٹر رہی۔
View this post on Instagram
A post shared by Cricwick (@cricwickofficial)
ارشد ندیم نے سرجری کے بعد محنت جاری رکھتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی اور کہا کہ آئندہ مقابلوں میں بھی وہ ملک کے لیے مزید کامیابیاں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلامی یکجہتی گیمز اولمپیئن ارشد ندیم پاکستان کے ایتھلیٹ سعودی عرب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی یکجہتی گیمز اولمپیئن ارشد ندیم پاکستان کے ایتھلیٹ پاکستان کے گولڈ میڈل کے لیے
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔