تقریباً صدی قبل شکارپور کو اسپتال دینے والے اودھو داس تارا چند کی لازوال خدمات
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
شکارپور کی پہچان سمجھے جانے والی قدیم اسپتال کی عمارت آج بھی اپنی مثال آپ ہے مگر بدقسمتی سے سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، شکارپور میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے معروف ادیب اور کالم نگار نسیم بخاری نے بتایا کہ اس اسپتال کی بنیاد ایک عظیم خدمتگار شخصیت، رائے بہادر اودھو داس تارا چند نے رکھی تھی جو شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سوشل ورکر بھی تھے اور اپنے شہر کے عوام کے لیے کچھ کرنے کا عزم رکھتے تھے۔
نسیم بخاری نے بتایا کہ ایک بار جب اودھو داس اپنی والدہ کو علاج کے لیے بمبئی لے گئے تو والدہ نے ان سے کہا کہ میرے پاس تو وسائل ہیں مگر سندھ کے غریب عوام کا علاج کون کرے گا؟
ماں کے اس پیغام پر انہوں نے شکارپور میں ایک جدید اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی رقم عطیہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہر شہر جا کر چندہ جمع کیا۔ کہیں سے ایک روپیہ ملا، کہیں 5 تو کہیں سے 10 روپے، حتیٰ کہ ایک ایک پیسہ بھی جمع کیا گیا اور باقاعدہ رجسٹر میں درج کر کے شفافیت قائم رکھی گئی۔
اسپتال کا سنگ بنیاد سنہ 1933 میں رکھا گیا اور سنہ 1935 میں اس وقت کے بمبئی کے گورنر نے اس کا افتتاح کیا۔
چوکھٹ پر قدموں تلے آتا رائے بہادر کا نامنسیم بخاری نے یہاں ایک حیران کن بات بھی بتائی کہ اودھو داس نے اس اسپتال کے مرکزی دروازے کی سیڑھیوں کے اوپر فرش پر اپنا نام کندہ کروادیا تھا تاکہ آنے جانے والے مریض اور تیماردار ان کے نام پر پیر رکھتے ہوئے گزریں۔
مزید پڑھیے: سرکاری اسپتال لیڈی ریڈنگ کے روم چارجز 10 ہزار روپے مقرر، اصل ماجرا کیا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ اس عمل کا مقصد عاجزی کا اظہار تھا تاکہ ان میں کبھی خود نمائی نہ آئے کیونکہ وہ رب کو پسند نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی یاد ہمیشہ خدمت سے جڑی رہے، تکبر سے نہیں۔
رائے بہادر اودھو داس تارا چند کی ولادت سنہ 1870 میں ہوئی اور وہ 17 جنوری 1943 کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
برطانوی حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں رائے بہادر کے لقب سے نوازا۔
قدیم عمارت حکومت کی توجہ کی طالبآج یہ عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر ہے۔ نسیم بخاری نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض شرپسند عناصر نے رائے بہادر کے مجسمے کو بھی نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں وہ مجسمہ سندھ یالوجی حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔
نسیم بخاری نے کہا کہ شکارپور ایک زمانے میں عالمی سطح پر اپنی تجارت، ثقافت اور خوشبوؤں کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا مگر آج یہ اپنی پرانی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جنہوں نے ادارے بنائے، عوام کی خدمت کی، ہم نے نہ صرف ان کی یاد کو فراموش کیا بلکہ ان کی نشانیوں کو بھی مٹانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک
کلچر ڈیپارٹمنٹ سندھ نے سنہ 1998 میں اس اسپتال سمیت 1203 عمارات کو ہیریٹیج قرار دیا جبکہ سنہ 2014 میں ورلڈ مانیومنٹ فورم نے شکارپور کو ہیریٹیج سٹی قرار دیا لیکن ان سب کے باوجود یہ تاریخی اسپتال آج بھی اپنی بحالی کے کام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومتی توجہ کے لیے ترس رہا ہے۔
اس اسپتال میں اب فرسٹ ایڈ کے سوا مریضوں کو کوئی طبی سہولت میسر نہیں۔ دیکھیے عمران ملک کی یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رائے بہادر اودھو داس تارا چند شکارپور شکارپور کا تاریخی اسپتال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رائے بہادر اودھو داس تارا چند شکارپور شکارپور کا تاریخی اسپتال اودھو داس تارا چند رائے بہادر اس اسپتال انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے