عالمی جریدوں نے تسلیم کیا کہ عمران خان اہم فیصلے توہمات کی بنیاد پر کرتے تھے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 2017 میں عمران خان نے شہباز شریف پر جھوٹا الزام لگایا کہ پاناما کیس کو واپس لینے کے لیے 10 ارب روپوں کی پیشکش کی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے الزام سے شہباز شریف کی ساکھ کو نقصان پہنچا، ان الزامات کا جواب دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: آئینی ترامیم مثبت اور وقت کی ضرورت کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ دی اکانومسٹ میں کل مضمون شائع ہوا جس میں بتایا گیا کہ عمران خان توہمات کی بنیاد پر اہم فیصلے لیتے تھے، معیشت اور خارجہ پالیسی ماہرین طے کرتے ہیں لیکن عمران خان لبادہ اوڑھے اپنی بیگم بشریٰ بی بی سے پوچھ کر فیصلے لیتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیڈٹ کالج وانا میں فوج نے کامیاب آپریشن کیا، آئی بی اور سی ٹی ڈی نے اسلام آباد میں دھماکا کرنے والے عناصر کو پکڑ لیا ہے، میں نے سری لنکن حکام کا شکریہ کیا جنہوں نے کرکٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: کچھ پتا نہیں طالبان سے مذاکرات پھر کب ہوں گے، عطا تارڑ
وزیر اطلاعات نے کہا کہ جنگ جیتنے کے بعد پاکستان پر تقنید کیا تو بھارت کرتا ہے یا پی ٹی آئی کرتی ہے، آئین کے فیصلے کسی کی پسند ناپسند سے نہیں ہوتے، آئندہ بھی فیصلے ایسے ہی ہوں گے۔ ترمیم عجلت میں نہیں ہوئی، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا ذکر تھا، اس کا فیصلہ عوام کو ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطا تارڑ عمران خان کیڈٹ کالج وانا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عطا تارڑ کیڈٹ کالج وانا عطا تارڑ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز