مذہبی جماعت کا احتجاج اسلام آباد، راولپنڈی کے کچھ راستے کھل گئے، موبائل انٹرنیٹ جزوی بحال
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
مذہبی جماعت کا احتجاج اسلام آباد، راولپنڈی کے کچھ راستے کھل گئے، موبائل انٹرنیٹ جزوی بحال WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث کئی روز سے بند جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں میں سے کچھ اہم شاہراہوں کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سے جاری مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
متعدد مرکزی شاہراہوں پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کیے گئے تھے، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی جانب سے عوامی مشکلات کے پیش نظر چند اہم راستے کھول دیے گئے ہیں۔
راولپنڈی میں اندرونِ شہر کے رہائشی علاقوں کو جانے والے راستے ٹریفک کے لیے بحال کر دیے گئے ہیں۔
مری روڈ کے اطراف واقع علاقوں کی گلیوں میں رکھی گئی رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں تاکہ شہری گھروں اور دفاتر تک آسانی سے پہنچ سکیں۔
اسلام آباد میں بھی ٹریفک جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ ایکسپریس وے، نائنتھ ایونیو اور ڈبل روڈ کو ملانے والے راستے کھول دیے گئے ہیں۔
تاہم فیض آباد انٹرچینج بدستور سیل ہے اور اسلام آباد و راولپنڈی کے درمیان براہِ راست آمدورفت اب بھی محدود ہے۔ دوسری جانب موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ ایم-2 موٹروے (لاہور تا اسلام آباد) ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے اور گاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
ادھر شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے باقی بند راستے بھی جلد از جلد کھولے جائیں تاکہ تعلیمی ادارے، دفاتر اور کاروباری سرگرمیاں معمول پر آسکیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید راستے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغان حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچےہیں: خواجہ آصف افغان حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچےہیں: خواجہ آصف اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کل صبح شروع ہو گی: اعلیٰ عہدیدار حماس خیبرپختونخوا: وزارتِ اعلیٰ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ امیدواروں کے نام سامنے آگئے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک طیفی بٹ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل، امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے افغانستان کی جارحیت اور پاکستانی ردعمل عوام کے درمیان جنگ نہیں: سکیورٹی ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: راولپنڈی کے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔