قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے ایم 9 پر ٹول پلازوں کی حد سے زیادہ تعداد کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا جب کہ کمیٹی اراکین نے این ایچ اے حکام پر کڑی تنقید کی۔

اعجاز حسین جکھرانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس 
ہوا، پاکستان پوسٹ آفس کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ  دی۔

کمیٹی رکن ڈاکٹر درشن  نے استفسار کیا کہ پاکستان پوسٹ آفس کون سی جگہوں پر غیر فعال ہیں؟ حکام پوسٹ آفس  نے کہا کہ جو ہماری اپنی عمارت میں ڈاکخانہ ہوتا ہے، اسے ہم بند نہیں کرتے ہیں، اگر اسے بند کریں تو لوگ اس عمارت پر قابض ہو جاتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی  نے کہا کہ میری بیٹی کا پاسپورٹ بذریعہ ڈاک بھیجا گیا،پاسپورٹ کا سسٹم شو کررہا تھا کہ آگیا ہے، لیکن مجھے پاسپورٹ ایک دن بعد موصول ہوا ہے، پاسپورٹ آفس میں جو خامیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔

اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے ایم 9 پر ٹول پلازوں کی حد سے زیادہ تعداد کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا،  کمیٹی ممبر وسیم حسین نے کہا کہ یہ تو کراچی اور حیدرآباد کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

وسیم حسین میرا کمیٹی میں آنے کا مقصد یہی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر افسران کی بات الگ الگ ہوتی ہے، میں چیئرمین این ایچ اے کے جواب سے بالکل مطمئن نہیں ہوں، این ایچ اے حکام غلط بنانی کمیٹی میں کررہے ہیں، اس کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ  رپورٹ بنا کر اسپیکر کو بھیج دیں، پھر پارلیمنٹ کو اس معاملہ پر فیصلہ کرنے دیں۔

وسیم حسین  نے کہا کہ دو سے تین کلومیٹر کے اندر ٹول پلازہ لگایا گیا ہے، اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی، میں حیدرآباد کی عوام اور ان کے رہائشیوں کی بات اور ان کی آواز اٹھا رہا ہوں۔

کمیٹی ممبر وسیم حسین نے چیئرمین این ایچ اے اور این ایچ اے افسران پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ  این ایچ اے حکام روایتی طور پر بیوروکریسی کی طرح کام کررہے ہیں، ہم عوامی نمائندے ہیں عوام کی بات کریں گے، این ایچ اے والے پارلیمانی نمائندوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، میں اس سارے معاملہ پر استحقاق کمیٹی جاؤں گا، مجھے پتہ ہے کون سا آدمی کس کے ریفرنس سے آکر کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔

کمیٹی ممبر ابرار علی شاہ  نے کہا کہ میں ٹول پلازوں اور اس کے ذریعے لیے جانے والے ٹیکس کے حق میں ہی نہیں ہوں، این ایچ اے ٹول پلازوں سے ٹیکس تو لے لیتا ہے،لیکن سٹرکوں کی مرمت اور دیکھ بحال پر پیسہ نہیں لگایا جاتا۔

کمیٹی میں ٹول پلازہ ریشنلائزیشن اور ایکوئٹی بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، کمیٹی ممبر ابرار علی شاہ  نے کہا کہ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ٹول پلازے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے جائیں گے، ٹول پلازوں اور ان سے اکٹھے کیے گئے ٹیکس کے حق میں ہی نہیں ہوں۔

این ایچ اے حکام  نے کہا کہ این ایچ اے ٹول پلازے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں، سیکرٹری مواصلات  نے بتایا کہ ٹول پلازوں سے حاصل کی گئی رقم سٹرکوں کو فعال رکھنے پر خرچ کرتے ہیں، این ایچ اے کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے،این ایچ اے کا ریونیو ٹول ٹیکس کے ذریعے ہی چلتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی  نے کہا کہ اس بل کے متن کے مطابق لوکل لوگوں کو ٹول ٹیکس کے استثنیٰ دیا جائے، قائمہ کمیٹی نے متعلقہ بل کو وزارت قانون و انصاف کو بھجوا دیا اور کہا کہ وزارت قانون و انصاف اور مواصلات 15 روز میں بل کو ویٹ کرکے قائمہ کمیٹی کو جمع کرائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایچ اے حکام قائمہ کمیٹی ٹول پلازوں کمیٹی ممبر نے کہا کہ ٹیکس کے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق