کراچی حیدرآباد موٹروے ایم9پر ٹول پلازوں کی زیادہ تعداد، اراکین اسمبلی کی این ایچ اے حکام پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے ایم 9 پر ٹول پلازوں کی حد سے زیادہ تعداد کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا جب کہ کمیٹی اراکین نے این ایچ اے حکام پر کڑی تنقید کی۔
اعجاز حسین جکھرانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس
ہوا، پاکستان پوسٹ آفس کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔
کمیٹی رکن ڈاکٹر درشن نے استفسار کیا کہ پاکستان پوسٹ آفس کون سی جگہوں پر غیر فعال ہیں؟ حکام پوسٹ آفس نے کہا کہ جو ہماری اپنی عمارت میں ڈاکخانہ ہوتا ہے، اسے ہم بند نہیں کرتے ہیں، اگر اسے بند کریں تو لوگ اس عمارت پر قابض ہو جاتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میری بیٹی کا پاسپورٹ بذریعہ ڈاک بھیجا گیا،پاسپورٹ کا سسٹم شو کررہا تھا کہ آگیا ہے، لیکن مجھے پاسپورٹ ایک دن بعد موصول ہوا ہے، پاسپورٹ آفس میں جو خامیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔
اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے ایم 9 پر ٹول پلازوں کی حد سے زیادہ تعداد کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، کمیٹی ممبر وسیم حسین نے کہا کہ یہ تو کراچی اور حیدرآباد کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
وسیم حسین میرا کمیٹی میں آنے کا مقصد یہی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر افسران کی بات الگ الگ ہوتی ہے، میں چیئرمین این ایچ اے کے جواب سے بالکل مطمئن نہیں ہوں، این ایچ اے حکام غلط بنانی کمیٹی میں کررہے ہیں، اس کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رپورٹ بنا کر اسپیکر کو بھیج دیں، پھر پارلیمنٹ کو اس معاملہ پر فیصلہ کرنے دیں۔
وسیم حسین نے کہا کہ دو سے تین کلومیٹر کے اندر ٹول پلازہ لگایا گیا ہے، اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی، میں حیدرآباد کی عوام اور ان کے رہائشیوں کی بات اور ان کی آواز اٹھا رہا ہوں۔
کمیٹی ممبر وسیم حسین نے چیئرمین این ایچ اے اور این ایچ اے افسران پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ این ایچ اے حکام روایتی طور پر بیوروکریسی کی طرح کام کررہے ہیں، ہم عوامی نمائندے ہیں عوام کی بات کریں گے، این ایچ اے والے پارلیمانی نمائندوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، میں اس سارے معاملہ پر استحقاق کمیٹی جاؤں گا، مجھے پتہ ہے کون سا آدمی کس کے ریفرنس سے آکر کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔
کمیٹی ممبر ابرار علی شاہ نے کہا کہ میں ٹول پلازوں اور اس کے ذریعے لیے جانے والے ٹیکس کے حق میں ہی نہیں ہوں، این ایچ اے ٹول پلازوں سے ٹیکس تو لے لیتا ہے،لیکن سٹرکوں کی مرمت اور دیکھ بحال پر پیسہ نہیں لگایا جاتا۔
کمیٹی میں ٹول پلازہ ریشنلائزیشن اور ایکوئٹی بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، کمیٹی ممبر ابرار علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ٹول پلازے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے جائیں گے، ٹول پلازوں اور ان سے اکٹھے کیے گئے ٹیکس کے حق میں ہی نہیں ہوں۔
این ایچ اے حکام نے کہا کہ این ایچ اے ٹول پلازے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں، سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ ٹول پلازوں سے حاصل کی گئی رقم سٹرکوں کو فعال رکھنے پر خرچ کرتے ہیں، این ایچ اے کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے،این ایچ اے کا ریونیو ٹول ٹیکس کے ذریعے ہی چلتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل کے متن کے مطابق لوکل لوگوں کو ٹول ٹیکس کے استثنیٰ دیا جائے، قائمہ کمیٹی نے متعلقہ بل کو وزارت قانون و انصاف کو بھجوا دیا اور کہا کہ وزارت قانون و انصاف اور مواصلات 15 روز میں بل کو ویٹ کرکے قائمہ کمیٹی کو جمع کرائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایچ اے حکام قائمہ کمیٹی ٹول پلازوں کمیٹی ممبر نے کہا کہ ٹیکس کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔