ڈنمارک کے ولی عہد کا ایف-16 لڑاکا طیارہ اڑانے کا خواب پورا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ڈنمارک کے 19 سالہ ولی عہد شہزادہ کرسچن نے ایف-16 لڑاکا طیارہ اڑا کر اپنے بچپن کا خواب پورا کر لیا۔
ڈنمارک کے شاہی خاندان کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شہزادے کی چند تصاویر شیئر کی گئیں، جس میں وہ ایف-16 کے اندر اور باہر خوشی سے مسکراتے دکھائی دے رہے ہیں۔
شہزادہ کرسچن نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’آج ایک لڑکے کا خواب سچ ہوگیا، مجھے ایف-16 کے آخری تربیتی پروازوں میں سے ایک میں شامل ہونے کا موقع ملا اور واقعی یہ ایک حیران کن تجربہ تھا۔‘
شہزادے نے اپنے پیغام میں ڈنمارک کی فضائیہ کے پائلٹس کے لیے عزت و احترام کا اظہار بھی کیا اور کہا، ’جلد ہی نئے ایف-35 طیارے سروس سنبھال لیں گے اور میں شکر گزار ہوں کہ مجھے یہ موقع ملا، میں پہلے بھی ہمارے پائلٹس کی بہت عزت کرتا تھا، لیکن آج کے بعد یہ احترام اور بڑھ گیا ہے۔‘
تصاویر میں ایک موقع پر ان کے والد، بادشاہ فریڈرک دہم بھی نظر آئے، جو اپنے بیٹے کی حوصلہ افزائی کے لیے سکریڈسٹرپ ایئربیس پر موجود تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہی محل نے اس پرواز کا اعلان پہلے سے نہیں کیا تھا بلکہ بعد میں اپنے سرکاری کیلنڈر میں شامل کیا، جس کے مطابق شہزادہ کرسچن نے دوپہر 3 بجے تربیتی پرواز میں حصہ لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔