data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے  متضاد اور غیر مخلصانہ قرار دے دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن کے اقدامات اور بیانات ایک دوسرے سے مکمل تضاد رکھتے ہیں۔ ایک طرف امریکا ایران کے خلاف دشمنانہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ دوسری جانب وہ مذاکرات اور تعاون کی بات کرتا ہے ، جو کہ محض دکھاوا ہے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امریکی صدر نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ  ایران کے لیے دوستی اور تعاون کا ہاتھ ہمیشہ کھلا ہے، تاہم ایران نے اس بیان کو سیاسی منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پہلے اپنے جارحانہ رویے اور مجرمانہ اقدامات پر نظرثانی کرے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ واشنگٹن کی حکومت نے ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے نہ صرف اقتصادی پابندیاں عائد کیں بلکہ عسکری اشتعال انگیزی بھی بڑھائی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی افواج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جنہیں ایران عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

ایران کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات کی بات ایسے وقت میں آنا، جب وہ اسرائیل کی کھلی حمایت اور ایران مخالف اقدامات میں ملوث ہے، کسی سنجیدہ پیشکش کے بجائے محض سیاسی چال ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کا یہ مؤقف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک واضح پیغام ہے کہ ایران اب کسی ایسے مذاکرات پر آمادہ نہیں جو دباؤ یا دھونس کے ماحول میں ہوں۔ ایران کا کہنا ہے کہ حقیقی بات چیت اسی وقت ممکن ہوگی جب امریکا اپنی پالیسیوں میں عملی تبدیلی لائے اور اسرائیل کی جنگی جارحیت کی حمایت بند کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟