مسلسل بارشوں کے بعد شہر میں مچھروں کی بہتات، انتظامیہ غائب
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251008-2-8
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سماجی شخصیت شاہد سومرو نے کہاہے کہ مسلسل بارشوں کے بعد حیدرآباد سمیت قاسم آباد میں مچھروں کی بہتات میں اضافہ پر بلدیاتی اداروں کہ جانب سے اسپرے مہم شروع نہ ہوئی گندگی کے سبب ڈینگی مچھراور ملیریا بخار تیزی سے پھیل رہا ہے قاسم آباد کی عوام اس ملیریا بخارکا روز شکار ہورہیں ہیں۔ضلعی مئیر حیدرآباد شہر بھر میں مچھر مار اسپرے کا موسم سرما کی شروعات سے اس کا آغازخود کریں۔ دوسری طرف حیسکو انتظامیاں نے قاسم ؐباد میں رات کیاوقات میں 8:45 سے 10:45 تک لوڈ شیڈنگ کا ظلم برقرار رکھا ہوا ہے۔ رات کے وقت بجلی بند ہونے کی وجہ سے بھی عوام گھروں کے باہر بھیٹنے پر مجبور بنے ہوئے ہیں اور ڈینگی اور ملیریا بخار میں مبتلا ہو رہیے ہیں پر حیسکو لوڈ شیڈنگ ایک ناسور بنا ہوا ہے۔ ایکسپریس فیڈر تو فیز ون قاسم آبادتو نہ بن سکا پر ٹھنڈ کا موسم شروع ہونے کے باوجود رات میں لوڈ شیڈنگ کا حیسکو خاتمہ کرنے بجائے لوڈ شیڈنگ کی دس گھنٹوں کی دھوم مچا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی میں بجلیکی کمی پر لوڈ شیڈنگ سمجھ آتی ہے لیکن اب اکتوبر میں حیدرآباد ٹھنڈی ہوائیںچلنے کے باوجود حیسکو چیف ایگزیکٹو نے لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع کرنے کے احکامات اب تک جاری نہیں کئیے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لوڈ شیڈنگ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔