افغان سرحد سے بلا اشتعال جارحیت، قوم کا افواج پاکستان کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
پاک افغان سرحد پرافغانستان سے بلا اشتعال جارحیت کیخلاف قوم نے افواج پاکستان کیساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبر میں افواج پاکستان کے حق میں ریلی اور افغان دہشتگردوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانیوں کو دل میں جگہ دی مگر یہ ہم پر حملہ کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں بھائی چارہ اور محبت دی لیکن یہ کبھی پاکستان زندہ باد نہیں کہیں گے۔ یہ غدار لوگ ہیں، ہم نے انہیں بچوں اور بہن بھائیوں کی طرح پالا ہے۔
شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ مودی اور بھارتی حکومت کی خوشنودی کیلئے ہماری چیک پوسٹوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ افغانستان خوارج اور دہشتگردوں کا مرکز ہے۔ آج افغان پوسٹوں پر پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے، ہم پاک فوج کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑے رہیں گے۔
شہریوں نے کہا کہ پاک فوج کا عزم ہے کہ ان تمام عناصر کو ختم کر دیں گے جو پاکستان کے امن کو خراب کرتے ہیں۔ افغانستان ہمارے دشمن بھارت کیساتھ کھڑا نہ ہو، انڈیا ہمارا دشمن ہے اور پاک فوج اس کی ہر چال سے باخبر ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اوراگر جنگ ہو گی تو شانہ بشانہ لڑیں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔