data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(نمائندہ جسارت)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے وفاقی وزیر برائے فنانس اینڈ ریونیو اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کے چھوٹے تاجروں، تنخواہ دار طبقے، فری لانسرز اور مائیکرو انٹرپرائزز کو درپیش مشکلات کے پیش نظر آمدنی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید ایک ماہ کی توسیع دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے پہلے دی گئی 15دن کی توسیع تاجروں کے لیے یقینی طور پر ایک خوش آئند قدم تھا، جس پر تاجر برادری حکومت اور وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی شکر گزار ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے ایف بی آر کے IRIS-E-Filingپورٹل میں فنی خرابیاں اور تکنیکی رکاوٹیں اب بھی برقرار ہیں جن کی وجہ سے بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان اپنے گوشوارے مکمل نہیں کر پا رہے۔احمد ادریس چوہان نے کہا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق IRIS پورٹل اکثر اوقات سسٹم ایررز، لاگ اِن فیلی Reciept Value Missingاور invalid verificationجیسے پیغامات دیتا ہے، کئی مرتبہ پورٹل مکمل طور پر غیر فعال ہو جاتا ہے، جس سے اکانٹنٹس اور ٹیکس ماہرین کو گوشوارے دوبارہ سے تیار کرنے پڑتے ہیں۔ اس صورتحال میں، 15دن کی دی گئی مہلت ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں سیزن میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع میں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، بجلی، انٹرنیٹ اور بینکنگ سروسز کی بندش کے باعث تاجر طبقہ اپنے مالیاتی ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہے جبکہ متعدد کاروباروں نے ڈیٹا لاس اور آڈٹ تاخیر کی شکایات بھی درج کروائی ہیں۔احمد ادریس چوہان نے کہا کہ اس صورتحال میں ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ آخری تاریخ میں ایک ماہ کی مزید توسیع نہ صرف انصاف اور شفافیت کے تقاضوں کے مطابق ہوگی بلکہ یہ اقدام ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں اضافہ اور رضاکارانہ ٹیکس فائلنگ کے رجحان کو بھی فروغ دے گا۔قائم مقام صدر نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کا ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون جاری ہے اور چیمبر اپنے ممبران کو آگاہی اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کررہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تاجر بروقت گوشوارے جمع کرا سکیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ حکومتِ پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو چاہیے کہ ٹیکس دہندگان کے لیے آسانی پیدا کرنے کے مقصد کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک ماہ کی مزید مہلت کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے، تاکہ چھوٹا تاجر طبقہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں پوری کر سکے اور قومی خزانے میں اپنا جائز حصہ ادا کر سکے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: احمد ادریس چوہان ایک ماہ کی نے کہا کہ ایف بی آر

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان