ایف بی آر کے 2 اہلکار دوران ڈیوٹی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(یف بی آر) کے دو اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کوہاٹ ٹول پلازہ کے نزدیک قائم چیک پوسٹ پر ڈیوٹی دینے والے ایف بی آر کے دو افسران کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ریجنل ٹیکس آفس ہزار(آر ٹی او پشاور) کے دو اہلکاروں کی نامعلوم افراد کے بزدلانہ حملہ میں شہادت کے المناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
ایف بی آر ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں ریجنل ٹیکس آفس پشاور کے دو اہلکار سپاہی مقدر علی اور سپاہی نذر محمد نے جام شہادت نوش کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افسوس ناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ دونوں اہلکار سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40ڈی کے تحت کوہاٹ ٹول پلازہ کے نزدیک قائم چیک پوسٹ پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
پشاور میں ایف بی آر کی سینئر قیادت چیف کمشنر پشاور اور کمشنروں نے شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر ان شہدا کی قربانی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور ان اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس طرح کے بزدلانہ اور مذموم حملے ایف بی آرکے قومی محصولات کے تحفظ اور ٹیکس قوانین کی انفورسمنٹ کے لئے اپنی ذمہ داریاں تندہی سے پوری کرنے کے عزم کو مزید تقویت دیں گے۔
ایف بی آر کی قیادت نے شہدا کے اہل خانہ کو حکومت کی پالیسی کے مطابق ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، بورڈ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تمام مالی اور دیگر سہولیات بغیر کسی تاخیر کے ان خاندانوں تک پہنچائی جائیں سپاہی مقدر علی اور سپاہی نذر محمد کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نامعلوم افراد ایف بی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔