ناصر حسین شاہ نے پاکستان لائف اسٹائل فرنیچر نمائش کاافتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات و ہائوسنگ ٹائون پلاننگ سندھ سید ناصر حسین شاہ نے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی 124ویں پاکستان لائف اسٹائل فرنیچر ایکسپو نمائش کا افتتاح کیا۔پاکستان لائف اسٹائل ایکسپو کے فیصل محسن اور زارا محسن نے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا استقبال کیا۔اس موقع پر وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے ربن کاٹ کر پاکستان لائف اسٹائل ایکسپو کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپو سینٹر کراچی میں فرنیچر ایکسپو میں 100 سے زیادہ ملکی فرنیچر کمپنیوں کے 120 اسٹال لگائے گئے ہیں،فرنیچر ایکسپو کا مقصد مقامی کمپنیوں کی مصنوعات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرا نا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہاکہ سندھ حکومت اس طرح کے ایوینٹ کو مکمل سپورٹ کرتی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو کے وڑن اور وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر سندھ حکومت مقامی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ میں رسائی فراہم کرنے کی ہر ممکنا اقدامات کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان لائف اسٹائل سید ناصر حسین شاہ ناصر حسین شاہ نے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔