ایران میں 2 فرانسیسی شہریوں کو اسرائیل کیلیے جاسوسی کے الزام میں قید کی سزائیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ایران میں دو فرانسیسی شہریوں کو اسرائیل اور فرانس کے لیے جاسوسی کے الزام میں طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان میں ملزمان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تاہم ان پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات بتائی گئی ہے۔
ان ملزمان پر فرانسیسی خفیہ اداروں کو ایران کی اہم اور حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں قومی سلامتی کے خلاف سازش اور صیہونی حکومت کے ساتھ خفیہ تعاون کے الزامات بھی لگائے گئے۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق دونوں غیر ملکی شہریوں کو مختلف دفعات کے تحت متعدد سزائیں سنائی گئی ہیں جو مجموعی طور پر طویل قید پر مشتمل ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اکثر غیر ملکی شہریوں پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتا آیا ہے تاہم ایسے مقدمات میں شواہد شاذ و نادر ہی منظرِ عام پر لائے جاتے ہیں۔
حالیہ غزہ جنگ کے دوران حماس کی مدد کرنے پر اسرائیل نے ایران کے عسکری کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
جس پر ایران نے ملک میں موجود اسرائیلی جاسوسوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا اور متعدد ملزمان کو سزائے موت دی۔
فرانس نے پہلے بھی ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ غیر ملکیوں کو بطور “سیاسی یرغمال” استعمال کرتا ہے اور تازہ واقعے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے الزام
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔