وینزویلا نے ناروے میں سفارت خانہ بند کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اوسلو (انٹرنیشنل ڈیسک) ناروے کی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ وینزویلا نے اوسلو میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے اور اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس اقدام کی تصدیق کراکس کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے جو وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے کے 3روز بعد سامنے آیا۔ناروے کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان سیسیلی روانگ نے بتایاکہ ہمیں وینزویلا کے سفارت خانے کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے بند کر رہے ہیں، تاہم وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی معاملات میں ہمارے اختلافات ہیں، تاہم ناروے وینزویلا کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا خواہاں ہے ۔ دوسری جانب کراکس میں وینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اوسلو میں سفارت خانہ بیرون ملک سفارتی مشنوں کی تنظیم نو کے سلسلے میں بند کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس اعلان سے 3روز قبل اوسلو میں امن کا نوبیل انعام ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیاتھا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حسن اسکوائر میں رات گئے پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کی ہراسانی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: حسن اسکوائر کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے رات کے وقت شہریوں کو سڑکوں پر روک کر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تازہ واقعہ رات ساڑھے 3 بجے پیش آیا جب مقامی اخبار کے سب ایڈیٹر آیت اللہ طاہر اپنے دفتر سے چھٹی کے بعد بائیک پر گھر واپس جا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پل کے نیچے یو ٹرن لیتے ہی پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا، تلاشی لی اور موبائل میں بٹھا کر دھمکیاں دیں۔ تمام شناختی دستاویزات دکھانے کے باوجود اہلکاروں نے تھانے لے جانے اور جسمانی تشدد کی دھمکیاں دیں۔ تقریباً ایک گھنٹے تک ایڈیٹر کو بلا وجہ ہراساں کرنے کے بعد اہلکاروں نے معافی مانگنے کے بعد جانے دیا۔
واضح رہے کہ اس علاقے میں ایڈیٹر کو اس سے قبل بھی دو سے تین مرتبہ چنگچی سے اتار کر تلاشی لینے اور بدتمیزی کرنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔
سب ایڈیٹر آیت اللہ طاہر نے متعلقہ حکام بشمول آئی جی اور ڈی آئی سے اپیل کی ہے کہ انہیں روزانہ کے اسی روٹ پر آمد و رفت کے دوران تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس کی جانب سے ہراسانی کے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔