Juraat:
2026-07-24@04:47:52 GMT

پاک افغان کشیدگی ،مولانافضل الرحمن کی ثالثی کی پیشکش

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

پاک افغان کشیدگی ،مولانافضل الرحمن کی ثالثی کی پیشکش

ماضی میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا اب بھی کرسکتا ہوں، معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں،معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے
افغان وزیر خارجہ کے کشمیر پر بیان پر واویلا کرنے کی بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو دیکھنا چاہئے،کیا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے،میڈیا سے گفتگو

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاک افغان جنگ بندی تو ہوگئی اب زبان بندی بھی ہونی چاہئے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ دونوں ممالک کو اشتعال کی بجائے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے کشمیر پر بیان پر واویلا کرنے کی بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہئے ،کیا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے ؟ان خیالات کااظہارامیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اب بھی کردار اداکرسکتا ہوں افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں وہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے پاک افغان جنگ بندی تو ہوگئی اب زبان بندی بھی ہونی چاہئے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ دونوں ممالک کو اشتعال کی بجائے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے انہوں نے کہاکہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے کشمیر پر بیان پر واویلا کرنے کی بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہئے کشمیر پر پاکستان نے کتنی پالیسیاں بدلی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے کیا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے اور اس کے لئے کیا پیشرفت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کی انٹیلی جنس اور دیگر عسکری صلاحتیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں افغانستان سے جو تقاضا کیا جاتا ہے دیکھا جائے وہ اس قابل بھی ہے پاکستان ایک عالمی معیار کی فوج اور صلاحیت رکھتا ہے ہماری ریاست کو سوچنا چاہئے کہ کیا مغربی محاذ کھولنا اس وقت کسی طرح درست جنگی حکمت عملی ہے ؟انہوں نے کہاکہ تحریک لبیک کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا ہے میں نے پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کرتا ہوں حکومت کو کسی بھی صورت تحریک لبیک کے ساتھ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا احتجاج کرنا سب کا حق ہے میں تحریک لبیک کے قائدین سے رابطے میں رہا ہوں کے پی کے میں وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ عدالت میں ہے عدالت کو آئین و قانون کے مطابق معاملے کو دیکھنا چاہئے عدالت انتظامی حکم کی بجائے آئینی تقاضے کے مطابق دیکھے اور سماعت کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: معاملات کو کی بجائے نے کہاکہ کے مطابق کرنے کی

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز  بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔ 

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور  وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار