میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں سولر پینلز کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، لوڈشیڈنگ اور مہنگے بلوں نے گھریلو اور تجارتی صارفین دونوں کو متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف راغب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر پینل کتنے درجہ حرارت پر زیادہ بجلی بناتا ہے؟
کئی شہروں میں چھتوں پر سولر پینلز عام نظر آتے ہیں مگر اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ چند اہم سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کیا صارفین کو وہی نرخ مل رہے ہیں جو حکومت کے بجٹ میں طے کیے گئے ہیں؟ اور کیا پاکستان میں اب بھی صرف درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کیا جا رہا ہے یا مقامی سطح پر تیاری کی سمت واقعی پیشرفت ہوئی ہے؟
انرجی ایکسپرٹ انجینیئر نور بادشاہ کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں مقامی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ شروع ہو رہی ہے جیسا کہ پاکستانی کمپنی نیٹ لائن نے ترک کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں اسلام آباد کے مضافات میں تقریباً 180 میگاواٹ کی سالانہ صلاحیت کے سولر پینل بنانے والی فیکٹری کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کی لاگت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ تین مراحل میں مکمل ہو رہا ہے جو سنہ 2025 میں جاری ہے اور سال 2026 تک فعال ہونے کی توقع ہے جس سے ’میڈ ان پاکستان سولر پینلز‘ کی تیاری ممکن ہوگی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔
اسی طرح، پنجاب حکومت نے اگست 2024 میں چینی کمپنی AIKO (ایک لیڈنگ کلین انرجی ٹیکنالوجی فرم) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت صوبے میں ایک بڑا اسمبلی اور مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم ہوگا۔
مزید پڑھیے: سولر پینلز پر 10 فیصد ٹیکس، اب فی واٹ سولر پینل کی قیمت کیا ہوگی؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ پنجاب کے انڈسٹریز اور کامرس منسٹر اور AIKO کے ساؤتھ پیسیفک ریجن صدر Alex Heng کے درمیان طے پایا، جو نہ صرف مقامی مارکیٹ کی ضرورت پوری کرے گا بلکہ برآمدات کا بھی بڑا امکان پیدا کرے گا۔
اس حوالے سے انجینیئر کامران رفیق کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت امید افزا ہے کیونکہ جب اسمبلی لائنیں چلیں گی اور خام مال کی رسائی بہتر ہوگی تو قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ امپورٹ پر انحصار کم ہوگا اور مارکیٹ مارجنز بھی بہتر ہوں گے۔
واضح رہے ملک میں دوسری جانب سولر صارفین کی جانب سے وقتاً فوقتاً یہ شکایت بھی سامنے آتی رہتی ہیں کہ بجٹ میں ٹیکس کم ہونے کے باوجود مارکیٹ میں سولر سسٹمز کی قیمتیں اکثر بجٹ سے زیادہ وصول کی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے سنہ 2025-26 کے بجٹ میں مکمل تیار سولر پینلز پر ٹیکس استثنیٰ دیا ہے اور اسمبل کیے گئے اجزا پر 10 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے مگر مختلف ڈسٹری بیوٹرز چارجز، تنصیب اور ترسیل وغیرہ کے نام پر اضافی مد شامل کرتے ہیں جس کی وجہ سے صارف کو زیادہ ادائیگی کرنی پڑتی ہے جو بجٹ میں طے کردہ قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: آسان اقساط پر سولر پینل لگوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری
انجینیئر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ 3 کلوواٹ کے گرڈ ٹائیڈ سولر سسٹم کی قیمت اس وقت اوسطاً 90 ہزار روپے فی کلوواٹ ہے جبکہ ہائبرڈ سسٹم کی لاگت ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 70 ہزار روپے فی کلوواٹ کے درمیان رہتی ہے۔
ان کے مطابق یہ قیمتیں صرف پینلز تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس میں جدید انورٹرز، وائرنگ، انسٹالیشن اور وارنٹی جیسے لازمی مراحل کی لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر صارفین سمجھتے ہیں کہ یہ اضافی چارجز من مانی ہیں حالانکہ یہ تمام اخراجات نظام کو محفوظ، پائیدار اور مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر کوئی کمپنی انسٹالیشن یا وارنٹی کے معیار پر سمجھوتہ کرے تو صارف کو بعد میں زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فلیٹس میں رہنے والے لوگ کیسے اور کتنے میں سولر سسٹم لگوا سکتے ہیں؟
ٹیکس امور کے ماہر ہارون شریف کا کہنا ہے کہ بجٹ میں جو ٹیکس پالیسیاں طے کی گئی ہیں وہ اچھی ہیں مگر جب مارکیٹ مارجن، درآمدی کرایہ، مزدوری اور ترسیل وغیرہ شامل ہو جاتے ہیں تو صارف تک پہنچنے والی قیمت اس بجٹ نرخ سے کافی مختلف ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شفافیت صرف سرکاری نرخوں پر نہیں بلکہ پورے سپلائی چین پر ہونی چاہیے۔
رینیویل انرجی ایکسپرٹ محمد حمزہ رفیع کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں اور صنعتکاروں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ لوکل مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بڑھائی جائے اور خام مال کی دستیابی اور تکنیکی مہارت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اس طرح قیمتیں کم ہوں گی، صارفین کے لیے سولر سسٹم مزید قوت خرید میں آجائیں گے اور اس سے درآمدات پر انحصار بھی کم ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں: بجٹ 26-2025: سولر پینلز پر کتنے فیصد جی ایس ٹی تجویز ہوا؟
واضح رہے کہ مارکیٹ میں سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ متبادل توانائی کے ذرائع پر اعتماد کر رہے ہیں لیکن اگر لوکل مینوفیکچرنگ مکمل طور پر فعال نہیں ہوگی اور صارفین کو شفاف نرخ نہہں ملیں گے تو یہ رجحان سست پڑ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سولر اضافی چارجز سولر پینل لگوانے کا رجحان سولر پینلز سولر سسٹم میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر اضافی چارجز سولر پینلز سولر سسٹم سولر پینلز پر سولر سسٹم سولر پینل انہوں نے میں سولر کا کہنا کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کا طاقتور سپیل جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کردی، مون سون بارشوں کے باعث حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے، اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے، سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔