پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں پیر کے روز انٹر ڈے ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4,500 سے زائد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔

کاروبار کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر 158,067.92 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ، انڈیکس 1,400 پوائنٹس گر گیا

دوپہر 1 بج کر 55 منٹ تک انڈیکس 3,732.

80 پوائنٹس یعنی 2.29 فیصد کمی کے بعد 159,365.39 پوائنٹس پر تھا۔

KSE-100 Index Falls Amidst Market Uncertainty 4,655 Points#KSE100 #PakistanStockExchange #StockMarket #TaurusSecurities #PSX #bearmarket #trading pic.twitter.com/UOMnqlEfkx

— Taurus Securities Limited (@TSL_Research) October 13, 2025

کاروباری دن کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، ریفائنری اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔

بڑے اسٹاکس جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایچ بی ایل اور یو بی ایل سرخ رنگ میں بند ہوئے۔

ماہرین کے مطابق، یہ فروخت کا دباؤ بنیادی طور پر اختتامی ہفتے میں سامنے آنے والی جیو پولیٹیکل پیش رفت اور پاک افغان سرحدی تناؤ کا نتیجہ ہے اور اس کے ساتھ عالمی ایکویٹی مارکیٹس بھی دباؤ میں ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار، انڈیکس 736 پوائنٹس مزید گر گیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک افغان کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے جذبات کمزور ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔

سرمایہ کار جغرافیائی غیر یقینی صورتحال اور حالیہ منافع کے بعد فروخت کے رجحان کے باعث محتاط ہیں۔”

اتوار کے روز آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان سرحد پر افغان علاقے سے غیر اشتعال انگیز حملے کے بعد ہونے والی شدید جھڑپوں میں کم از کم 23 پاکستانی فوجی شہید جبکہ 200 سے زائد دہشتگرد مارے گئے۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 69 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق لڑائی ہفتہ کی رات گئے اس وقت شروع ہوئی جب افغان طالبان اور ان کے اتحادی گروہوں، بشمول کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اچانک حملہ کیا۔

گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا، ٹریڈنگ والیوم کم ہوا اور کئی ہفتوں کی مسلسل تیزی کے بعد سرمایہ کاری کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔

گزشتہ جمعہ کے روز کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 3.5 فیصد گر کر 163,098.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں: معیشت درست سمت میں گامزن، آئندہ مالی سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائےگا، وزیر خزانہ

عالمی سطح پر بھی ایشیائی منڈیوں میں پیر کے روز غیر یقینی صورتحال رہی، امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے سے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھے۔

اگرچہ وال اسٹریٹ فیوچرز میں معمولی بہتری دیکھی گئی، تاہم جاپان اور امریکہ میں تعطیلات کے باعث ٹریڈنگ غیر مستحکم رہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر یکم نومبر سے 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی، لیکن بعد ازاں نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور امریکا چین کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس آٹو موبائل او جی ڈی سی ایچ بی ایل پاک افغان کشیدگی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل حبکو ریفائنری سرمایہ کار کمرشل بینکس مندی یو بی ایل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آٹو موبائل او جی ڈی سی ایچ بی ایل پاک افغان کشیدگی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل حبکو ریفائنری سرمایہ کار یو بی ایل اسٹاک ایکسچینج میں پاک افغان کے روز کے بعد بی ایل

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی