وزیراعظم کی سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ، سعودی وزیر خارجہ سمیت عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
وزیرِ اعظم کی آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات. ملاقات میں دونوں رہنماؤں کا غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 13, 2025
وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان بھی ملاقات و گفتگو میں شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کی اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے بھی ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی انڈونیشیا کے صدر پربوو صوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ملاقات ہوئی۔
ملاقاتوں میں خطے میں امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی فلسطینی صدر محمود عباس سے بھیی ملاقات ہوئی، جس میں غزہ امن معاہدے پر بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات، غزہ جنگ بندی پر اظہار اطمینان
وزیراعظم نے ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیاکہ فلسطین کے عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے یکجہتی اور ان کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھی جائےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شہباز شریف ملاقاتیں وزیراعظم پاکستان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف ملاقاتیں وزیراعظم پاکستان وی نیوز شہباز شریف کی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی سے ملاقات کے وزیر
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں