اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستانی کارروائی میں مارے گئے افغان کمانڈرز کی فہرست سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
افغانستان کی جانب سے بھارت کے ایما پر پاکستان کے خلاف بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج کی جانب سے پکتیا میں کیے گئے آپریشن کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پکتیا میں پاک فوج کے بھرپور جواب کے نتیجے میں نہ صرف افغان عبوری حکومت کی متعدد فوجی پوسٹیں تباہ ہوئیں بلکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں مارے جانے والے افغان کمانڈرز میں کمانڈر فرمان الکرامہ، کمانڈر صادق اللہ داوڑ، کمانڈر غازی مدہ خیل، کمانڈر مقرّب، کمانڈر قسمت اللہ، کمانڈر گلاب دیوانہ، کمانڈر رحمانی، کمانڈر عادل، کمانڈر فضل الرحمن (خارجی گل بہادر کا چچا)، کمانڈر عاشق اللہ کوثر اور کمانڈر یونس شامل ہیں۔
یاد رہے کہ کئی روز سے جاری اس کشیدگی کے دوران اور دو روزہ جنگ بندی میں توسیع کے درمیان آج پاکستان اور افغانستان کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔