اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستانی کارروائی میں مارے گئے افغان کمانڈرز کی فہرست سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
افغانستان کی جانب سے بھارت کے ایما پر پاکستان کے خلاف بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج کی جانب سے پکتیا میں کیے گئے آپریشن کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پکتیا میں پاک فوج کے بھرپور جواب کے نتیجے میں نہ صرف افغان عبوری حکومت کی متعدد فوجی پوسٹیں تباہ ہوئیں بلکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں مارے جانے والے افغان کمانڈرز میں کمانڈر فرمان الکرامہ، کمانڈر صادق اللہ داوڑ، کمانڈر غازی مدہ خیل، کمانڈر مقرّب، کمانڈر قسمت اللہ، کمانڈر گلاب دیوانہ، کمانڈر رحمانی، کمانڈر عادل، کمانڈر فضل الرحمن (خارجی گل بہادر کا چچا)، کمانڈر عاشق اللہ کوثر اور کمانڈر یونس شامل ہیں۔
یاد رہے کہ کئی روز سے جاری اس کشیدگی کے دوران اور دو روزہ جنگ بندی میں توسیع کے درمیان آج پاکستان اور افغانستان کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔