افغان باشندوں کا انخلاء تیز، مکان دینے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ افغان باشندوں کو کرایہ پر گھر دینے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوسری جانب افغان خواتین اور بچوں کی مزاحمت روکنے کیلئے بھی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں 12 ہزار سے زائد افغان بچوں کا ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے، افغان بچوں کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کرکے انخلاء کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے انخلاء کا سلسلہ تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سپیشل برانچ، پولیس اور دیگر اداروں نے ازسر نوء افغان باشندوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کے سامنے افغان باشندوں کا سراغ لگانے میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جب کارروائی کی جائے تو افغان خواتین اور بچے مزاحمت کرتے ہیں، اگر اہلکاروں خواتین کیخلاف کوئی ایکشن لیں تو مرد حضرات اسے غیرت کا معاملہ بنا لیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغان خانہ بدوشوں کی بار بار ہجرت اور علاقہ بدلنے کے عمل کو بھی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ جن افغانیوں کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے، وہ شہر یا علاقہ بدل لیتے ہیں۔ جس سے ان کو ڈی پورٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کو دی گئی بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ریکارڈ کی متعدد فہرستیں مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ افغان باشندوں کو کرایہ پر گھر دینے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوسری جانب افغان خواتین اور بچوں کی مزاحمت روکنے کیلئے بھی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں 12 ہزار سے زائد افغان بچوں کا ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے، افغان بچوں کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کرکے انخلاء کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کارروائی عمل میں لائی جائے کیخلاف کارروائی ذرائع کے مطابق افغان باشندوں افغان بچوں گیا ہے
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔