اسلام ٹائمز: سیستان اور بلوچستان کی عدلیہ پر حملہ کرکے ایک خاتون اور ایک شیر خوار بچوں سمیت متعدد بے گناہ شہریوں کو شہید کردیا گیا۔ یہ دہشت گرد صرف اور صرف اس صوبے کے لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ گھناؤنی حرکتیں کر رہے ہیں۔ جس طرح ان کے صہیونی آقاؤں نے پہلے اس سمت میں قدم اٹھایا تھا۔ لیکن نہ صرف یہ کہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ اب بلوچ عوام کیخلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کی مذموم حرکتوں کے باوجود اس صوبے میں اتحاد، دوستی اور بھائی چارے میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خصوصی رپورٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کا صوبہ سیستان اور بلوچستان ہو یا پاکستان کایہاں پر پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سےعوام کے پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بحیرہ عمان سے پانی کی منتقلی کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، اسرائیلی جاسوسی اداروں اور صیہونی حکومت سے وابستہ دہشت گردوں نے انجینئروں اور تعمیراتی ورکشاپوں پر حملہ کرکے عوام کی خوارک اور پانی پہنچانے کے وسائل کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

چند روز قبل دہشت گردوں نے بحیرہ عمان سے سیستان و بلوچستان کے شمال میں پانی کی منتقلی کی لائن پروجیکٹ کے انجینئروں پر حملہ کیا تھا۔ یہ پائپ لائن پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل صوبے کے جنوب میں سڑکوں کی تعمیر کی ورکشاپس پر کئی مراحل میں حملہ کیا گیا اور ان ورکشاپس میں موجود آلات اور مشینری کو آگ لگا دی گئی، جن پر کئی اربوں کی لاگت آئی اور یہ سڑکوں کی تعمیر میں جان و مال کے تحفظ اور لوگوں کے آرام کو یقینی بنانے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

اس سے پہلے نیکشہر علاقے میں انہوں نے گندم لے جانے والی گاڑیوں کو آگ لگا دی، اس بار لوگوں کی خوارک کی ضروریات کو نشانہ بنا کر ان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ کئی سالوں سے سیستان و بلوچستان میں دہشت گرد صیہونی حکومت کے جاسوسی ادارے موساد کیساتھ مل کر سیستان اور بلوچستان کے عوام کی سلامتی، آزادی اور امن کو درہم برہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابتدا میں امتیازی سلوک اور بلوچ عوام کے خلاف جھوٹے جبر کا مقابلہ کرنے کے نعرے کے ساتھ انہوں نے برے اقدامات کو جواز پیش کرنیکی کوشش کرتے رہے۔

بلوچ عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئے، قبائل میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش ناکام ہوئی۔ ان کے مذموم عزائم واضح ہوتے گئے اور صیہونی حکومت اور عالمی استکبار سے ان کا تعلق آشکار ہوتا گیا اور انہوں نے مقامی بلوچ شخصیات پر حملے کیے۔ لوگوں کو براہ راست نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد صیہونی حکومت کے خلاف اپنے وطن اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ عوام کی یکجہتی کا بدلہ لینے کے لیے صیہونیوں کے ان کرائے کے قاتلوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے زاہدان میں عدالت کو نشانہ بنایا۔

سیستان اور بلوچستان کی عدلیہ پر حملہ کرکے ایک خاتون اور ایک شیر خوار بچوں سمیت متعدد بے گناہ شہریوں کو شہید کردیا گیا۔ یہ دہشت گرد صرف اور صرف اس صوبے کے لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ گھناؤنی حرکتیں کر رہے ہیں۔ جس طرح ان کے صہیونی آقاؤں نے پہلے اس سمت میں قدم اٹھایا تھا۔ لیکن نہ صرف یہ کہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ اب بلوچ عوام کیخلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کی مذموم حرکتوں کے باوجود اس صوبے میں اتحاد، دوستی اور بھائی چارے میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیستان اور بلوچستان صیہونی حکومت بلوچ عوام پر حملہ رہے ہیں پانی کی عوام کی کی کوشش کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن