وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات کے بغیر کسی بھی وفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’میں نے آج وفاقی حکومت کی زراعت اور افغان مہاجرین کے حوالے سے میٹنگ میں ذاتی طور پر شرکت سے اس لیے معذرت کی ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کی عوام نے عمران خان کو ووٹ اور مینڈیٹ دیا ہے اور جب تک میں عمران خان صاحب سے مل کر پالیسی گائیڈ لائنز نہیں لیتا تو کسی ایسی میٹنگ میں شرکت صوبے کی عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہو گی‘‘
لنڈے کے کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرے گی اور متعلقہ اتھارٹیز کو ڈائریکشن جاری کرے گی تاکہ میری اپنے لیڈر اور خیبرپختونخوا کی عوام کے مینڈیٹ کے امین اور نمائندہ عمران خان سے ریگولر ملاقات کا انتظام کیا جائے ، اس حوالے سے ہماری قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت تمام قانونی فورمز پر بھی جا رہی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے میں شرکت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔