بلوچستان کی قابلِ کاشت زمین گھٹ کر صرف 7.2 فیصد رہ گئی، ماہرین نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان کا صوبہ بلوچستان شدید موسمیاتی چیلنجز کا شکار ہے۔تفصیلات کے مطابق کم بارشوں اور ناقص آبی انتظام نے خشک سالی کو بڑھادیا، جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صوبے کی قابلِ کاشت زمین گھٹ کر صرف 7.2 فیصد رہ گئی ہے۔زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو نتیجہ زرعی اجناس کی قلت اور لوگوں کی نقل مکانی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ہنہ کے علاقہ میں واقع ان کے باغات میں کبھی معیاری سیبوں کی بڑی مانگ تھی، مگر آبی قلت نے باغات سکھا دیے اور آمدنی ختم کر دی۔ بلوچستان میں کم بارشوں کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال 3 سے 4 فٹ گر رہی ہے، جس کے نتیجے میں خشک سالی بڑھ رہی ہے، اور دیہی علاقوں کی 75 فیصد آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔