بے کار آلو بھی کارآمد ہو سکتے ہیں: بیوٹی انڈسٹری میں حیران کن تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں جہاں زرعی فضلہ ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے، وہیں اسکاٹ لینڈ کے سائنسدانوں نے آلو کے بارے میں ایسی نئی تحقیق پیش کی ہے جس نے بیوٹی انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے۔
آلو عام طور پر ہماری خوراک کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اس تحقیق کے مطابق ان کے وہ حصے جو فصل کی کٹائی کے بعد پھینک دیے جاتے ہیں، اب مہنگی بیوٹی مصنوعات بنانے میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف خوب صورتی کے شعبے میں نئی راہیں کھول رہی ہے بلکہ زرعی فضلے کو قیمتی وسائل میں بدلنے کا عملی مظاہرہ بھی کر رہی ہے۔
یونیورسٹی آف ابردین کے محققین نے آلو کے پتوں اور نرم ٹہنیوں سے ایک اہم کمپاؤنڈ ’سولانیسول‘ نکالنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔ یہ کمپاؤنڈ جدید اسکن کیئر پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی مہنگی اجزاء کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جو اینٹی ایجنگ، جلد کی مرمت اور نمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر اب تک سولانیسول کا سب سے بڑا تجارتی ذریعہ تمباکو تھا، لیکن نئی تحقیق نے آلو کو ایک سستا، پائیدار اور آسان متبادل قرار دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں ہر سال ہزاروں ایکڑ پر آلو کے بیجوں کی کاشت کی جاتی ہے اور فصل کا بڑا حصہ کٹائی کے بعد فضلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اسی فضلے سے بیوٹی مصنوعات کے کارآمد اجزا حاصل کیے جائیں تو یہ نہ صرف خوب صورتی کی صنعت میں انقلاب لاسکتا ہے بلکہ زرعی معیشت کو بھی غیر معمولی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
پروجیکٹ سے وابستہ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’زرعی شعبے کے لیے بڑی کامیابی‘‘ قرار دیا، جبکہ پروفیسر ہیذر ولسن کے مطابق یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ کسانوں کے لیے بیکار سمجھا جانے والا مواد دراصل مستقبل کی معیشت کا خزانہ بن سکتا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر آلو کا استعمال پہلے ہی خوب مقبول ہو چکا ہے۔ ٹک ٹاک پر مختلف صارفین اسے جلد کے داغ دھبے، پفنیس اور ڈارک سرکلز کم کرنے کے لیے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ آلو کے قتلے آنکھوں کے نیچے رکھ کر فوری بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں، جب کہ کئی ویڈیوز میں نوجوان اسے پمپل پیچ کے طور پر آزما رہے ہیں۔
ایک صارف نے یہاں تک کہا کہ آلو ’’آنکھوں کے نیچے کنسیلر‘‘ کا کام کرتا ہے اور چند منٹ میں تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔
غذائیت کے ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آلو خصوصاً شکر قندی میں موجود بیٹا کیروٹین اور لائکوپین جلد کی چمک بڑھانے اور سورج کی ہلکی شعاعوں سے قدرتی تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا ٹرینڈز اور جدید سائنسی تحقیق مل کر ایک ایسے مستقبل کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں ’’فارم ٹو فیس‘‘ اسکن کیئر عام ہوجائے گا اور ممکن ہے جلد چمک بڑھانے والا ماسک، جھریاں کم کرنے والا سیرم یا ڈارک سرکلز ہٹانے والی کریم، یہ سب کچھ آلو سے تیار ہونے لگے۔
یہ نیا تصور نہ صرف بیوٹی صنعت کو ماحول دوست بنا سکتا ہے بلکہ عام کسانوں اور زرعی معیشت کے لیے ایک نیا راستہ بھی کھول سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں آلو شاید صرف کھانے کی چیز نہ رہیں بلکہ جدید اسکن کیئر کے سب سے اہم اجزا میں شمار ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتا ہے آلو کے کے لیے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔