خطرناک ڈرائیونگ پرگاڑی ضبط، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
دبئی پولیس نے خطرناک ڈرائیونگ اور محنت کش ڈیلیوری بائیکر کو بلاوجہ تنگ کرنے والے ایک ڈرائیور کی گاڑی ضبط کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
واقعے کے مطابق، لاپرواہ ڈرائیور نے ایک محنت کش بائیکر کا راستہ روکا اور اسے غیر مناسب طریقے سے ہراساں کیا، جس کی ویڈیو پولیس نے جاری بھی کی ہے۔ اس ویڈیو میں ڈرائیور کی غیر ذمہ دارانہ کارکردگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس ڈرائیور کی شناخت کی اور اس کی گاڑی اس کے گھر سے ضبط کر لی۔ ساتھ ہی، اس کے خلاف خطرناک ڈرائیونگ اور ہراساں کرنے کے الزام میں قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
دبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر ایک دوسرے کا احترام کریں اور خاص طور پر محنت کشوں اور ڈلیوری کرنے والوں کو تحفظ دیں، کیونکہ یہ لوگ ہماری روزمرہ زندگی کے اہم کردار ہیں۔ اس قسم کے واقعات سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ ہوتا ہے بلکہ معاشرتی امن بھی متاثر ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس نے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔