پنجاب میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب (ای پی اے) نے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام پر بڑی پابندی عائد کر دی ہے جب کہ اب صوبے میں کسی بھی نئی ہاؤسنگ اسکیم کو اس وقت تک منظوری نہیں دی جائے گی جب تک وہ اپنے لے آؤٹ پلان میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے جگہ مختص نہیں کرے گی۔

ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ کے مطابق یہ فیصلہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا کیونکہ بیشتر ہاؤسنگ سوسائٹیز بغیر ٹریٹمنٹ گندا پانی چھوڑ رہی تھیں، جو نہ صرف زمین بلکہ قریبی آبی ذخائر کو بھی آلودہ کر رہا تھا۔

ان کے مطابق کسی بھی نئی اسکیم کو ماحولیاتی منظوری صرف اسی وقت دی جائے گی جب وہ اپنے منصوبے میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تفصیلی ڈیزائن پیش کرے گی، اور اس کے لیے مخصوص زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

عمران حامد شیخ نے واضح کیا کہ اب بغیر صفائی کے گندے پانی کا اخراج کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، بشمول ایل ڈی اے، ایف ڈی اے، جی ڈی اے اور آر ڈی اے، کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ ماحولیاتی منظوری کے عمل میں سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

ڈی جی ماحولیات کے مطابق ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام نہ صرف آلودگی کو کم کرے گا بلکہ زیرِ زمین پانی کو بھی محفوظ بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اس فیصلے پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

یہ فیصلہ ای پی اے پنجاب کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت گزشتہ ماہ گھروں اور پلازوں کے لیے سیپٹک ٹینک بنانا بھی لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اس پالیسی کے مطابق ہر گھر کے ساتھ تین خانوں والا سیپٹک ٹینک بنایا جانا ضروری ہے، جو گندے پانی میں موجود تقریباً 70 فیصد گندگی اور 40 فیصد آلودگی کو کم کرتا ہے۔

ای پی اے کے مطابق ڈوئل واٹر مینجمنٹ کے اس ماڈل کے تحت گھر کی سطح پر سیپٹک ٹینک اور سوسائٹی کی سطح پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ دونوں لازم ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام گندے پانی کو براہِ راست زمین میں جانے سے روکتا ہے، جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہاؤسنگ سوسائٹیز ٹریٹمنٹ پلانٹ کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔

مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ

ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا