’میں نے ایک ایک کرکے نیند کی گولیاں جمع کیں تاکہ قتل کا منصوبہ مکمل کر سکوں‘
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
کچھ عرصہ قبل ایک رشتہ آیا جسے گھر والوں کے کہنے پر قبول کر لیا اور پھر بیٹی کی شادی بھی ہوگئی، میں سندھ کے شہر حیدر آباد میں کام کرتا ہوں اور میرے بیوی بچے کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں، میں ہر 15 روز بعد کراچی آتا ہوں اور دو روز کے بعد پھر واپس چلا جاتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیگاری غیرت کے نام پر دوہرا قتل: سردار شیر باز ضمانت پر رہا، مرکزی ملزم اب بھی مفرور
محمد سلیم کی عمر کم و بیش 65 برس ہے، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے باپ ہیں، محنت مزدوری کے لیے گھر سے دور حیدر آباد جاتے ہیں
’بیٹیوں کا باپ ہونا کوئی آسان تھوڑی ہوتا ہے، اور جب ہر جانب درندے دندنا رہے ہوں تو گھر سے دور جانے کا کون سوچ سکتا ہے، لیکن اولاد کے لیے یہ تلخ فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے‘۔ محمد سلیم ایس ایچ او اورنگی ٹاؤن سے مخاطب تھا۔
محمد سلیم کچھ وقفے کے بعد پھر شروع ہوا اور کہاکہ میری بڑی بیٹی کا رشتہ ایک یا ڈیڑھ سال قبل آیا، مجھے لڑکا مناسب نہیں لگا لیکن بیگم کی خواہش تھی کہ بیٹی کا رشتہ دے دو، رشتہ آنے کے کافی دن بعد میں راضی ہوا اور بیٹی کا نکاح کرا دیا، لیکن داماد ہمارے پاس ہی رہنے لگا خیر نکاح ہو چکا تھا کوئی مسلئہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ بیٹی کی شادی کے ایک برس بعد میں حیدر آباد میں تھا کہ بیگم کی کال آئی اور کہاکہ تمہاری بیٹی کا فیصلہ ہوگیا ہے، پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آئی، لیکن پھر بیوی نے بتایا کہ طلاق ہوگئی ہے تمہاری بیٹی کو، دکھ تو ہوا پر پھر سوچا کہ طلاق بھی انسانوں کو ہی ہوتی ہے کوئی نئی بات تو ہے نہیں، خیر خود کو تسلی دی اور کام میں مصروف رہا۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے محمد سلیم نے کہاکہ میں گھر روز فون کرتا تھا لیکن جب فون کروں تو میرے سابق داماد کی باتوں کی آواز آئے، لیکن جب بیگم سے پوچھوں تو وہ بولے کہ بیٹے کی آواز ہے لیکن بیٹے کی آواز ایسی نہیں تھی۔
’جب کئی بار ایسا ہوا تو مجھے شک ہوا کہ میری بیٹی کا سابقہ شوہر اب بھی میرے ہی گھر پر ہے، اس کے بعد میرا گھر جانا ہوا لیکن آنے کا پتا ہونے کی وجہ سے وہ گھر سے چلا جاتا تھا اور میرے جانے کے بعد آجاتا تھا۔‘
محمد سلیم نے بتایا کہ بیٹی کی طلاق سے اتنی تکلیف نہیں ملی جتنی مجھے اس بات سے تھی کہ وہ اب بھی میرے گھر رہتا ہے اور اسی وجہ سے سوچنے لگا کہ کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
’ڈاکٹر کے پاس گیا، نیند کی گولی لی اور 10 روز تک نیند کی گولی لیتا رہا، پھر اچانک کسی کو بتائے بغیر میں کراچی اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ میرا سابق داماد اپنے دوست کے ہمراہ میرے گھر پر تھا، مجھے دیکھ کر سب کو دھچکا ضرور لگا کہ میں ایسے اچانک کدھر آگیا۔‘
محمد سلیم نے کہاکہ اس موقع پر میں نے خود کو قابو میں رکھا، اور شربت بنایا جس میں نیند کی گولیاں ملائیں، پھر وہ شربت میرے سمیت سب نے پیا اور سو گئے، لیکن میں جلدی جاگ گیا۔
انہوں نے کہاکہ جاگنے کے بعد میں نے اپنے سامان میں سے گوشت کاٹنے والا ٹوکا نکالا اور اپنے سابق داماد کی طرف بڑھنے لگا لیکن اس سے پہلے کے وار کرتا وہ بھی نیند سے بیدار ہو چکا تھا، پہلے وار سے اس نے خود کو بچا تو لیا لیکن زخمی ہو چکا تھا، پھر اس کی چیخ و پکار سے اس کا دوست بھی جاگ چکا تھا، اس سے پہلے کہ اس کا دوست میری طرف بڑھتا میں 2 مزید ٹوکے کے وار کرکے اپنے سابق داماد کو قتل کردیا، اور اس کے دوست کو بھی زخمی کردیا۔
’میرے گھر کے تمام افراد چیخ و پکار کی وجہ سے جاگ چکے تھے میری بیٹی بھی زخمی ہوئی، لیکن میں اپنا کام پورا کرچکا تھا، مجھے کوئی ندامت نہیں، میری غیرت گوارا نہیں کررہی تھی کہ میں اس فرد کو زندہ چھوڑوں کیوں کہ یہ میرے گھر کی عزت کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ سلیم نے کہاکہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے میں نے خود قتل کے بعد اپنی گرفتاری دی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی،غیرت کے نام پر خاتون کا قتل، 6 ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
ایس ایچ او تھانہ اورنگی ٹاؤن مہر یوسف کا کہنا ہے کہ ہم نے ملزم کا 161 کا بیان لے لیا ہے، لڑکے کا تعلق پنجاب سے ہے، اس کے اہل خانہ کا تاحال پتا نہیں چلا، جیسے ہی معلومات ملیں گی ان تک اطلاع پہنچا دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کیس کا تمام زاویوں سے جائزہ لے رہے ہیں اور عدالت سے ریمانڈ لے کر مزید تفتیش کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیٹی کو طلاق حیدرآباد سابق داماد غیرت کے نام پر قتل قتل کا منصوبہ کراچی نکاح نیند کی گولیاں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیٹی کو طلاق غیرت کے نام پر قتل قتل کا منصوبہ کراچی نکاح نیند کی گولیاں وی نیوز غیرت کے نام پر محمد سلیم نے کہاکہ میرے گھر سلیم نے نیند کی بیٹی کا چکا تھا کے بعد
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔