کچھ عرصہ قبل ایک رشتہ آیا جسے گھر والوں کے کہنے پر قبول کر لیا اور پھر بیٹی کی شادی بھی ہوگئی، میں سندھ کے شہر حیدر آباد میں کام کرتا ہوں اور میرے بیوی بچے کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں، میں ہر 15 روز بعد کراچی آتا ہوں اور دو روز کے بعد پھر واپس چلا جاتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیگاری غیرت کے نام پر دوہرا قتل: سردار شیر باز ضمانت پر رہا، مرکزی ملزم اب بھی مفرور

محمد سلیم کی عمر کم و بیش 65 برس ہے، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے باپ ہیں، محنت مزدوری کے لیے گھر سے دور حیدر آباد جاتے ہیں

’بیٹیوں کا باپ ہونا کوئی آسان تھوڑی ہوتا ہے، اور جب ہر جانب درندے دندنا رہے ہوں تو گھر سے دور جانے کا کون سوچ سکتا ہے، لیکن اولاد کے لیے یہ تلخ فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے‘۔ محمد سلیم ایس ایچ او اورنگی ٹاؤن سے مخاطب تھا۔

محمد سلیم کچھ وقفے کے بعد پھر شروع ہوا اور کہاکہ میری بڑی بیٹی کا رشتہ ایک یا ڈیڑھ سال قبل آیا، مجھے لڑکا مناسب نہیں لگا لیکن بیگم کی خواہش تھی کہ بیٹی کا رشتہ دے دو، رشتہ آنے کے کافی دن بعد میں راضی ہوا اور بیٹی کا نکاح کرا دیا، لیکن داماد ہمارے پاس ہی رہنے لگا خیر نکاح ہو چکا تھا کوئی مسلئہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہاکہ بیٹی کی شادی کے ایک برس بعد میں حیدر آباد میں تھا کہ بیگم کی کال آئی اور کہاکہ تمہاری بیٹی کا فیصلہ ہوگیا ہے، پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آئی، لیکن پھر بیوی نے بتایا کہ طلاق ہوگئی ہے تمہاری بیٹی کو، دکھ تو ہوا پر پھر سوچا کہ طلاق بھی انسانوں کو ہی ہوتی ہے کوئی نئی بات تو ہے نہیں، خیر خود کو تسلی دی اور کام میں مصروف رہا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے محمد سلیم نے کہاکہ میں گھر روز فون کرتا تھا لیکن جب فون کروں تو میرے سابق داماد کی باتوں کی آواز آئے، لیکن جب بیگم سے پوچھوں تو وہ بولے کہ بیٹے کی آواز ہے لیکن بیٹے کی آواز ایسی نہیں تھی۔

’جب کئی بار ایسا ہوا تو مجھے شک ہوا کہ میری بیٹی کا سابقہ شوہر اب بھی میرے ہی گھر پر ہے، اس کے بعد میرا گھر جانا ہوا لیکن آنے کا پتا ہونے کی وجہ سے وہ گھر سے چلا جاتا تھا اور میرے جانے کے بعد آجاتا تھا۔‘

محمد سلیم نے بتایا کہ بیٹی کی طلاق سے اتنی تکلیف نہیں ملی جتنی مجھے اس بات سے تھی کہ وہ اب بھی میرے گھر رہتا ہے اور اسی وجہ سے سوچنے لگا کہ کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

’ڈاکٹر کے پاس گیا، نیند کی گولی لی اور 10 روز تک نیند کی گولی لیتا رہا، پھر اچانک کسی کو بتائے بغیر میں کراچی اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ میرا سابق داماد اپنے دوست کے ہمراہ میرے گھر پر تھا، مجھے دیکھ کر سب کو دھچکا ضرور لگا کہ میں ایسے اچانک کدھر آگیا۔‘

محمد سلیم نے کہاکہ اس موقع پر میں نے خود کو قابو میں رکھا، اور شربت بنایا جس میں نیند کی گولیاں ملائیں، پھر وہ شربت میرے سمیت سب نے پیا اور سو گئے، لیکن میں جلدی جاگ گیا۔

انہوں نے کہاکہ جاگنے کے بعد میں نے اپنے سامان میں سے گوشت کاٹنے والا ٹوکا نکالا اور اپنے سابق داماد کی طرف بڑھنے لگا لیکن اس سے پہلے کے وار کرتا وہ بھی نیند سے بیدار ہو چکا تھا، پہلے وار سے اس نے خود کو بچا تو لیا لیکن زخمی ہو چکا تھا، پھر اس کی چیخ و پکار سے اس کا دوست بھی جاگ چکا تھا، اس سے پہلے کہ اس کا دوست میری طرف بڑھتا میں 2 مزید ٹوکے کے وار کرکے اپنے سابق داماد کو قتل کردیا، اور اس کے دوست کو بھی زخمی کردیا۔

’میرے گھر کے تمام افراد چیخ و پکار کی وجہ سے جاگ چکے تھے میری بیٹی بھی زخمی ہوئی، لیکن میں اپنا کام پورا کرچکا تھا، مجھے کوئی ندامت نہیں، میری غیرت گوارا نہیں کررہی تھی کہ میں اس فرد کو زندہ چھوڑوں کیوں کہ یہ میرے گھر کی عزت کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ سلیم نے کہاکہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے میں نے خود قتل کے بعد اپنی گرفتاری دی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی،غیرت کے نام پر خاتون کا قتل، 6 ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

ایس ایچ او تھانہ اورنگی ٹاؤن مہر یوسف کا کہنا ہے کہ ہم نے ملزم کا 161 کا بیان لے لیا ہے، لڑکے کا تعلق پنجاب سے ہے، اس کے اہل خانہ کا تاحال پتا نہیں چلا، جیسے ہی معلومات ملیں گی ان تک اطلاع پہنچا دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس کا تمام زاویوں سے جائزہ لے رہے ہیں اور عدالت سے ریمانڈ لے کر مزید تفتیش کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بیٹی کو طلاق حیدرآباد سابق داماد غیرت کے نام پر قتل قتل کا منصوبہ کراچی نکاح نیند کی گولیاں وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیٹی کو طلاق غیرت کے نام پر قتل قتل کا منصوبہ کراچی نکاح نیند کی گولیاں وی نیوز غیرت کے نام پر محمد سلیم نے کہاکہ میرے گھر سلیم نے نیند کی بیٹی کا چکا تھا کے بعد

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف