چمکنی پھاٹک کے قریب سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار، عوام کا سفر عذاب بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: چمکنی پھاٹک کے قریب 50 دیہاتوں کو آپس میں ملانے والا مرکزی لنک روڈ مکمل طور پر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، جس کے باعث بچوں، خواتین اور رکشہ ڈرائیورز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سڑک کی تباہ حالی کے باعث روزانہ حادثات پیش آ رہے ہیں جبکہ اطراف میں تعمیر ہونے والے پلازے اور نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہو چکا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسکول جانے والے بچے گندے پانی میں گر کر زخمی ہو جاتے ہیں اور خواتین کو آمدورفت میں شدید دقت پیش آتی ہے۔ حیران کن طور پر یہ خستہ حال سڑک ٹی ایم اے دفتر کے بالکل قریب واقع ہے لیکن حکام کی توجہ تاحال اس جانب نہیں گئی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق، قریبی سڑکیں متعدد بار تعمیر کی جاچکی ہیں مگر یہ مرکزی لنک روڈ گزشتہ کئی برسوں سے حکومتی غفلت کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2013 سے 2025 تک حکومتیں بدل گئیں مگر سڑک کی حالت نہ بدل سکی۔ کبھی فنڈز کی کمی کا عذر کیا جاتا ہے تو کبھی سیاسی اختلافات کا۔
مقامی ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً 6 سے 7 ہزار گاڑیاں اس راستے سے گزرتی ہیں، جن میں زیادہ تر رکشے، چنگچیاں اور چھوٹی گاڑیاں شامل ہیں، جو گڑھوں اور کھڈوں کی وجہ سے بار بار خراب ہو جاتی ہیں۔
رہائشی مشرف خان نے ایکسپریس سے گفتگو میں بتایا کہ رات کے وقت اس سڑک پر موبائل اسنیچنگ اور چھین جھپٹ کی وارداتیں عام ہیں کیونکہ گاڑیاں آہستہ چلتی ہیں اور ملزمان اندھیرے میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔
اہلِ علاقہ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، کمشنر پشاور اور ڈی جی پی ڈی اے سے اپیل کی ہے کہ چمکنی پھاٹک سے متصل اس لنک روڈ کی فوری تعمیر و مرمت کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ عوامی مشکلات ختم اور علاقے میں امن بحال ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔