ڈھاکہ: ایئرپورٹ پر خوفناک آتشزدگی، فلائٹ آپریشن معطل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ہوائی اڈے کے کارگو زون میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد تمام پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کی دوپہر حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کارگو ایریا میں اچانک آگ لگ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی سے ڈھاکا جانے والی غیر ملکی طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ
بنگلہ دیش سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کوثر محمود کے مطابق ایئرپورٹ، بنگلہ دیش آرمی، ایئر فورس اور دیگر اداروں کے ریسکیو اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں۔
https://wenews.
فائر سروس ہیڈکوارٹر کے اہلکار طلحہ بن جاسم کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 25 یونٹس موقع پر پہنچے جبکہ بنگلہ دیش نیوی کی اضافی ٹیمیں بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
انتظامیہ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر ایئرپورٹ پر تمام فلائٹ آپریشن معطل کر دیے ہیں۔ ہینگرز میں موجود طیاروں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ کی گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی، کم از کم 16 افراد ہلاک
آگ کے باعث کئی پروازیں متاثر ہوئیں۔ ڈھاکہ سے کوالالمپور جانے والی بٹک ایئر کی فلائٹ OD-163 اور ممبئی جانے والی انڈیگو فلائٹ 6E-1116 ٹیکسی وے پر انتظار کر رہی ہیں۔
بینکاک سے آنے والی یو ایس بنگلہ ایئر لائنز کی پرواز اور شارجہ سے آنے والی ایئر عربیہ کی پرواز چٹاگانگ ایئرپورٹ پر اتاری گئی ہیں۔ دہلی سے آنے والی انڈیگو فلائٹ کولکتہ منتقل کر دی گئی جبکہ ہانگ کانگ سے آنے والی کیتھے پیسفک کی پرواز فضا میں چکر لگا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آگ بنگلہ دیش حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ ڈھاکہ ایئرپورٹ فائر بریگیڈ کارگو کوالالمپور
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش فائر بریگیڈ کارگو کوالالمپور ایئرپورٹ پر سے آنے والی بنگلہ دیش
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔