مشہور ریئلٹی شو ”بگ باس“ کے 19 ویں سیزن کی امیدوار اور سوشل میڈیا انفلوئنسر تانیا متل ایک نئے اسکینڈل کی زد میں آگئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تانیا پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش زندگی کے بارے میں جھوٹے اور گمراہ کن دعوے کیے۔

ممبئی کے انفلوئنسر فیضان انصاری نے تانیا کے خلاف گوالیار ایس ایس پی آفس میں باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ فیضان نے مؤقف اختیار کیا کہ تانیا متل نے خود کو ایک ایسی عمارت یا گھر کی مالکن ظاہر کیا جو ’’فائیو اسٹار ہوٹل سے زیادہ شاندار‘‘ ہے، اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ صرف ’’بکلاوا، دال اور کافی‘‘ کےلیے بذریعہ جہاز بیرون ملک سفر کرتی ہیں۔

شکایت میں مؤقف اپنایا گیا کہ تانیا کے یہ بیانات سوشل میڈیا پر نوجوانوں کےلیے غلط مثال قائم کر رہے ہیں، کیونکہ وہ ایک غیر حقیقی اور جھوٹی طرزِ زندگی کو کامیابی کی علامت بنا کر پیش کر رہی ہیں۔ فیضان کے مطابق تانیا کی یہ حرکات سوشل میڈیا پر جھوٹ، دھوکے اور خودنمائی کے کلچر کو فروغ دے رہی ہیں۔

انفلوئنسر پر مزید یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ تانیا نے اپنے مبینہ بوائے فرینڈ بلراج سمیت کئی افراد کو دھوکا دیا، جس کے باعث ان کے درمیان تنازع پیدا ہوا اور بلراج کو جیل جانا پڑا۔

فیضان انصاری کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ممبئی سے گوالیار گئے تاکہ تانیا کے خلاف شکایت کے لیے تمام ضروری شواہد جمع کروا سکیں۔

یہ معاملہ اب تیزی سے بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں صارفین سوشل میڈیا کے اس مصنوعی چمک دمک والے پہلو پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر حقیقت اور دکھاوے کی لکیر کہاں کھینچی جائے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کہ تانیا

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل