شوہر یا بیوی؟ سوشل میڈیا پر جوڑا سب کو چکر میں ڈال گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
جنوبی چین سے تعلق رکھنے والے ایک دلچسپ جوڑے نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے، جہاں ان کی تصاویر اور ویڈیوز نے صارفین کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ دونوں نہ صرف ایک جیسے کپڑے پہنتے ہیں بلکہ چہرے کے خدوخال بھی اتنے ملتے جلتے ہیں کہ دیکھنے والے اندازہ نہیں لگا پاتے کہ ان میں سے شوہر کون ہے اور بیوی کون!
چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر Dongguan سے تعلق رکھنے والے ہیشیان شینگ اور ان کی اہلیہ لیانگ شیاؤ، جن کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہیں، چینی سوشل میڈیا پر اپنی دلچسپ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے کافی مقبول ہو چکے ہیں۔ ان کی ایک ویڈیو خاص طور پر وائرل ہوئی، جس میں دونوں نے ایک جیسی وگیں پہن رکھی ہیں، چہرے کے تاثرات بھی ایک جیسے ہیں اور کیمرے کے سامنے ساتھ کھڑے ہو کر صارفین کو چیلنج دے رہے ہیں۔شوہر کون ہے؟ بیوی کون ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ویڈیو میں لیانگ نے اپنے شوہر کو خود میک اپ کر کے اپنے جیسا بنایا، اور نتیجہ دیکھ کر لوگوں کو ایسا لگا جیسے وہ جڑواں بہن بھائی ہوں۔ سوشل میڈیا پر بعض افراد نے تو مذاق میں کہا کہ شاید یہ بچپن میں بچھڑ جانے والے جڑواں ہیں!
لیانگ کے مطابق،ہمارا تعلق مختلف خاندانوں سے ہے اور ہم دونوںہربل ادویات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک تفریحی انداز ہے جس کے ذریعے وہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو مسکراہٹ دینا چاہتے ہیں۔
ان کی یہ انوکھے انداز کی ویڈیوز دیکھ کر صارفین حیرت زدہ ہیں، اور یہ جوڑا نہ صرف اپنے ظاہری مشابہت بلکہ خوشگوار ہم آہنگی کی وجہ سے بھی لوگوں کے دل جیت رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔