اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 اکتوبر 2025ء) عالمی ادارۂ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک دنیا بھر میں 14 کروڑ لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ انسانی امداد میں کمی کے باعث چھ بحران زدہ علاقوں میں خوراک پہنچانے کے لیے اس کی کارروائیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مککین نے کہا ہے کہ افغانستان، جمہوریہ کانگو، ہیٹی، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور سوڈان میں اس کے امدادی پروگرام کڑے مسائل سے دوچار ہیں اور یہ صورتحال مزید بگڑنے کو ہے۔

راشن کی فراہمی میں ہونے والی ہر کٹوتی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بچہ بھوکا سوتا ہے، کوئی ماں اپنا کھانا چھوڑ دیتی ہے یا کوئی خاندان زندہ رہنے کے لیے درکار مدد سے محروم ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

Tweet URL

'ڈبلیو ایف پی' کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بحران ایسے وقت سامنے آ رہا ہے جب دنیا میں بھوک تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اس وقت 31 کروڑ 90 لاکھ لوگ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جن میں سے چار کروڑ 40 لاکھ کو ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، سوڈان اور غزہ میں قحط کی صورتحال ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق، رواں سال ادارے کو ملنے والے امدادی وسائل میں 40 فیصد کمی کا خدشہ ہے جس سے اس کا متوقع بجٹ 10 ارب ڈالر سے کم ہو کر 6.

4 ارب ڈالر رہ جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ان حالات میں بھوک کے خلاف دہائیوں کی محنت اور پیش رفت ضائع ہو سکتی ہے۔

ادارے نے افریقی خطے ساہل میں پانچ لاکھ افراد کو غذائی خود کفالت کے حصول میں مدد دی ہے۔ اگر امدادی وسائل مہیا نہ ہوئے تو یہ کامیابی بھی ضائع ہو جائے گی۔ہنگامی امدادی اقدمات کو خطرہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی وسائل میں کمی کے باعث خوراک کی فراہمی میں کٹوتیاں ایک کروڑ 37 لاکھ افراد کو بھوک کی بحران زدہ سطح سے نیچے دھکیل کر ہنگامی درجے پر پہنچا سکتی ہیں جو کہ بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں ایک تہائی اضافے کے مترادف ہو گا۔

افغانستان میں صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے جہاں غذائی امداد صرف 10 فیصد ضرورت مند لوگوں تک ہی پہنچ رہی ہے۔ جمہوریہ کانگو میں بھی بھوک ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے جہاں تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد یا ملک کی چوتھائی آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ادارے نے رواں ماہ ملک میں 23 لاکھ افراد کو خوراک فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وسائل میں کمی کے بعد اب صرف 6 لاکھ افراد ہی اس سے مستفید ہوں گے۔

ہیٹی میں بھوکے لوگوں کے لیے تیار کھانےکی فراہمی کے پروگرام پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں اور لوگوں کو ادارے کی جانب سے معمول کے ماہانہ راشن کا صرف نصف حصہ مل رہا ہے۔

صومالیہ میں بھی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ گزشتہ سال ملک میں 22 لاکھ افراد کو امدادی خوراک دی جا رہی تھی جبکہ نومبر 2025 تک یہ تعداد گھٹ کر 3 لاکھ 50 ہزار رہ جائے گی۔ جنوبی سوڈان میں تمام مستحق افراد کے لیے راشن میں کٹوتی کر دی گئی ہے۔

سوڈان کی صورت حال بھی نہایت سنگین ہے۔ ادارہ جنگ سے متاثرہ اس ملک میں ہر ماہ 40 لاکھ افراد کو خوراک فراہم کر رہا ہے جہاں نصف آبادی یعنی دو کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔'ڈبلیو ایف پی' کا عزم

ادارے نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی نے بحران زدہ علاقوں کو امداد پہنچانے کی تیاری کے اقدامات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

تقریباً ایک دہائی بعد پہلی مرتبہ ہیٹی میں طوفانی موسم کے لیے کوئی ہنگامی غذائی ذخیرہ موجود نہیں اور افغانستان میں سردیوں کی آمد پر امدادی خوراک ذخیرہ نہیں کی جا سکی۔

ادارے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بھوک سے بری طرح متاثرہ علاقوں میں غذائی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔ سنڈی مککین کا کہنا ہے کہ امدادی خوراک میں تباہ کن کٹوتیاں نہ صرف جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ استحکام کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ ان سے نقل مکانی میں اضافہ ہوتا ہے اور وسیع تر سماجی و اقتصادی بحران جنم لیتے ہیں۔

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لاکھ افراد کو ڈبلیو ایف پی کی فراہمی کیا ہے کہ کا سامنا کے لیے

پڑھیں:

ایف بی  آر  کو ٹیکس  میںکمی  کا سامنا  ‘ نومبر  میں  ہدف  ایک 34ارب  وصولی 878ارب روپے 

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ایف بی آر کو ماہ نومبر میں ٹیکس وصولی میں مسلسل چوتھے ماہ کمی کا سامنا ہے۔ نومبرمیں1 ہزار34  ارب ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی878  ارب تک محدود رہی۔ ایف بی آر حکام  کا کہنا ہے کہ رواں ماہ ٹیکس وصولی میں اب تک 156  ارب روپے شارٹ فال رہا۔ آخری ورکنگ ڈے میں مزید ٹیکس وصولی متوقع ہے، شارٹ فال میں کمی آئیگی، اگلے ماہ دسمبر میں ٹیکس وصولی کا ہدف 1406  ارب روپے مقرر ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے5ماہ میں ایف بی آرکو ٹیکس وصولی میں بڑی کمی کا سامنا ہے۔ حکام ایف بی آرکے مطابق ستمبر میں 1325  ارب ہدف کے مقابلے میں 1228  ارب روپے ٹیکس جمع کیاگیا، اکتوبرمیں1026  ارب ہدف کے مقابلے میں951  ارب روپے ٹیکس وصول ہوا، رواں مالی سال ٹیکس وصولی کا 13.9 ٹریلین روپے کا  نظرثانی شدہ ہدف ہے، دستاویز کے مطابق جولائی تانومبر 5 ہزار83  ارب ہدف کے مقابلے و صولی4  ہزار715  ارب روپے رہی۔ جولائی میں 748 ارب ہدف کے مقابلے757  ارب روپے جمع کیے گئے، اگست میں ٹیکس وصولی 950  ارب ہدف کے مقابلے901  ارب تک محدود رہی۔ بجٹ 2025-26 ء میں ٹیکس وصولی کا ہدف14 ہزار 131  ارب روپے رکھا گیا تھا، سیلابی نقصانات کے باعث آئی ایم ایف کی مشاورت سے ہدف میں نظرثانی کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • 72 گھنٹوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر1 لاکھ 26 ہزار چلان؛13 کروڑ 48 لاکھ کے جرمانے
  • پاکستان کے مجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ
  • فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں احتجاجی مظاہرہ
  • ایف بی  آر  کو ٹیکس  میںکمی  کا سامنا  ‘ نومبر  میں  ہدف  ایک 34ارب  وصولی 878ارب روپے 
  • کیا بچوں کی بھوک بڑھانے والی ادویات کا استعمال محفوظ ہے؟
  • سری لنکا میں سیلاب سے ہلاکتیں 123 تک جا پہنچیں؛ 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد متاثر
  • وزن بڑھانے کے لیے جنک فوڈ استعمال کرنے والا فٹنس انفلوئنسر ایک ماہ میں انتقال کر گیا
  • وزیراعلیٰ کے پی کو اس وقت تک بھوک ہڑتال کرنی چاہیے جب تک وہ عشق عمران خان میں مرے نہ، رانا ثنا
  • 60 لاکھ کی نوکری چھوڑ کر نینی بننے والی خاتون کتنے کروڑ کما رہی ہیں؟
  • امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے