خوراک تک آسان رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے،سپیکر قومی اسمبلی کا عالمی یوم خوراک پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2025ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ خوراک تک آسان رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، زرعی خود انحصاری ہی مضبوط معیشت کی بنیاد ہے،غذائی قلت دور کرنے کے لئے عوام ، حکومت اور پارلیمنٹ کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا ۔16 اکتوبر عالمی یوم خوراک کے حوالے سے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ خوراک کا اس سال کا موضوع “بہتر خوراک اور بہتر مستقبل کے لیے ہاتھوں میں ہاتھ‘‘ ایک اچھا پیغام ہے،خوراک کی کمی ایک عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں،پائیدار زرعی پالیسیوں کے بغیر غذائی خودکفالت ممکن نہیں،غذائی قلت کے خاتمے کے لیے حکومت، پارلیمان اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ غذائی خودانحصاری ہی مضبوط معیشت کی بنیاد ہے،کسانوں کو زراعت کے جدید طریقے اپنانے کی ترغیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی وسائل کے موثر استعمال سے غربت اور بھوک میں کمی لائی جا سکتی ہے،غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو بااختیار بنانا ضروری ہے،خوراک کی قلت پر قابو پانے کے لیے اشیائے خوردونوش کے ضیاع کی روک تھام ضروری ہے ۔ موسمیاتی تبدیلیاں زرعی پیداوار پر اثرانداز ہو رہی ہیں، ان کے تدارک کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں،حکومت موسمیاتی لحاظ سے موزوں کاشتکاری کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے،آبپاشی کے جدید طریقوں کو بروئے کار لا کر بنجر زمینوں کو آباد کیا جائے،پارلیمان غذائی تحفظ سے متعلق قانون سازی کے لیے پرعزم ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔