خوراک تک مساوی، محفوظ اور سستی رسائی ہر انسان کا حق ہے: صدر آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد: (دنیا نیوز) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خوراک تک مساوی، محفوظ اور سستی رسائی ہر انسان کا حق ہے، غذائی تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اپنے پیغام میں صدرِ پاکستان نے کہا کہ دنیا 1979 سے 16 اکتوبر کو یومِ خوراک مناتی ہے، اس سال کا موضوع بہتر خوراک اور بہتر مستقبل کے لیے ہاتھوں میں ہاتھ تجویز کیا گیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں زراعت معیشت کی بنیاد اور کروڑوں افراد کی روزی کا ذریعہ ہے، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور مہنگائی خوراک کی قلت میں اضافہ کر رہے ہیں، کئی خاندان آج بھی صحت مند غذا کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں میں غذائی کمی ایک تشویشناک چیلنج ہے، حکومت موسمیاتی لحاظ سے موزوں کاشت کاری کو فروغ دے رہی ہے، بہتر آبی و زمینی انتظام اور خوراک کی فراہمی کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیلاب زدگان کے ریلیف کے لیے اقدامات جاری ہیں، خوراک کے ضیاع کی روک تھام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ اور کمزور طبقات کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، ہر گھر میں خوراک پہنچے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔