لاہور، ٹی ایل پی کی احتجاج کی کال، تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
تحریک لبیک پاکستان نے آج پھر جمعہ کے فوری بعد احتجاج کی کال دی ہے۔ جس کے پیش نظر لاہور میں صورتحال کافی کیشدہ ہے۔ کنیٹرز لگا کر ٹی ایل پی کے مرکز کو چاروں طرف سے بند کر دیا گیا ہے جبکہ آج ٹی ایل پی سربراہ حافظ سعد ضوی کی گرفتاری کا بھی خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں امن و امان کی صورتحال کافی کیشدہ ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کی کال دیئے جانے کے بعد ہونیوالی جھڑپوں میں اب تک دو کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان نے آج پھر جمعہ کے فوری بعد احتجاج کی کال دی ہے۔
احتجاج کی کال کے پیش نظر لاہور میں صورتحال کافی کیشدہ ہے۔ کنیٹرز لگا کر ٹی ایل پی کے مرکز کو چاروں طرف سے بند کر دیا گیا ہے جبکہ آج ٹی ایل پی سربراہ حافظ سعد ضوی کی گرفتاری کا بھی خدشہ ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حافظ سعد رضوی مرکز میں موجود ہیں جبکہ کارکنوں کی بڑی تعداد ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھائے ملتان روڈ پر موجود ہے۔ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے تمام تعلیمی اداروں میں آج صبح 11 بجے ہی چھٹی دیدی تھی جبکہ شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احتجاج کی کال ٹی ایل پی
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔