سجل علی اور احد رضا میر سے متعلق سوشل میڈیا پر نئی قیاس آرائیاں شروع
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاکستان کی صف اول کی اداکارہ سجل علی کا اپنے سابق شوہر احد رضا میر کو ایکس پر دوبارہ فالو کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس سے مداحوں میں چہ مگوئیوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ سجل نے احد کو ایکس پر فالو کیا ہے، جو طلاق کے بعد ایک غیر متوقع اقدام ہے اور اس نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے۔احد اور سجل کے کچھ مداح اسے پھر سے ’دوستی‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ماضی کی رومانوی جوڑی کی واپسی کی امید باندھ رہے ہیں تاہم بظاہر یہ ایکس اکاؤنٹ جعلی لگ رہا ہے۔یاد رہے کہ سجل اور احد کی جوڑی نے 2017 کے مقبول ڈرامے 'یقین کا سفر' سے شہرت حاصل کی تھی، جہاں ان کی آن اسکرین کیمسٹری کو ناظرین کی جانب سے بےحد پسند کیا گیا تھا۔اس کیمسٹری نے حقیقی زندگی میں بھی محبت کا روپ دھارا اور جون 2019 میں اس جوڑے نے منگنی اور 14 مارچ 2020 کو ابوظہبی میں شادی کرلی۔ تاہم یہ رشتہ زیادہ وقت نہیں چل سکا اور دو سال بعد تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کے بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی جس پر کبھی دونوں اداکاروں کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سجل کی احد سے علیحدگی کے باوجود بھی ان کے خاندان سے پیشہ ورانہ تعلقات برقرار ہیں۔ سجل ان دنوں احد کے والد، سینئر اداکار آصف رضا میر کے ساتھ ڈرامہ 'میں منٹو نہیں ہوں' میں کام کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
پی ٹی آئی انتشار پیداکرنے کیلئے بھارتی ‘ میڈیا کو استمال کررہی ہے : عطاتارڑ
اسلام آباد‘ نوشہرہ (اپنے سٹاف رپورٹر سے‘ نامہ نگار) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پی کے حکومت کی توجہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے دھرنے پر ہے‘ اگر یہ دھرنے دیتے رہے تو صوبے پر توجہ کون دے گا؟۔ خیبر پی کے حکومت غیر قانونی مطالبہ کر رہی ہے‘ بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں، کبھی کسی سیاسی قیدی کو اتنی مراعات حاصل نہیں ہوئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کو حاصل ہیں، جھوٹ کے بیانیے کو شکست ہوگی۔ اختیار ولی خان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اختیار ولی خان نے پارٹی کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، انہوں نے مشکل ترین دور میں صوبائی سیٹ جیتی، خیبر پی کے میں ان کی پہچان ہے، انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے، ایم ایس ایف کے زمانے سے وہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں، وہ میڈیا میں پارٹی کی توانا آواز ہیں، انہوں نے نہ صرف ملکی پالیسی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا بلکہ ملکی سالمیت اور ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھ کر بات کی۔ وفاق نے دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان قائم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی بات کی مگر ان کی اس طرف توجہ نہیں۔ جیل مینوئل کے خلاف مطالبات کئے جارہے ہیں، کیا جیل رولز بار بار ملاقات کی اجازت دیتے ہیں؟۔ آپ اپنے صوبے کی خدمت کریں، تعلیم، صحت اور لاء اینڈ آرڈر پر فوکس کریں مگر آپ کو توفیق نہیں۔ آپ چار چار گھنٹے دھرنا دیتے ہیں، یہ صرف ٹک ٹاک کی حکومت ہے جو لائکس کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر قانونی ڈیمانڈ ہے، جیل مینوئل اور قانون میں کہاں گنجائش ہے کہ آپ ملاقات کریں گے تو ہی صوبے کے معاملات چلائیں گے۔ پی ٹی آئی کی رہنما نے مبینہ طور پر انڈین میڈیا پر افغانستان کے میڈیا کو ایکٹو کیا اور افواہیں پھیلائی گئیں۔ بھارت اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے سوشل میڈیا پر ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹ ہولڈرز اب بھارتی سوشل میڈیا ہینڈلرزکی حمایت لے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے یہ صرف اور صرف ان کے پریشر ڈالنے اور ملاقات کرنے کے ہتھکنڈے ہیں، ملک میں قانون اور آئین موجود ہے جو بھی ہوگا ،آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔وہ اب جیل میں ملاقات کے لئے ڈرامے اور ڈھونگ رچا رہا ہے، ملک میں انتشار پیدا کرنے کیلئے پی ٹی آئی انڈیا اور افغانستان کے میڈیا کو استعمال کر رہی ہے، انٹرنیشنل میڈیا کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور قید ہیں، ان کے پاس عدالت میں کوئی دفاع نہیں ہے‘ ان کے وکلاء تاریخ پر تاریخ لیتے ہیں۔ملک سے باہر بیٹھے بہت سے لوگ اپنے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں ملک میں انتشار پھیلے، پی ٹی آئی کی رہنما کو غلط ٹویٹ پر نوٹس بھجوایا، این سی سی آئی کو درخواست دی، انہوں نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کی، ملک دشمنی، جھوٹ بولنا، حقائق کے برعکس تصویریں لگانا اور بعد میں معافی مانگ لینا ان کا وطیرہ بن چکاہے۔