اٹلی کے وینزینزا شہر میں ایک 70 سالہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے 53 سالوں تک مکمل نابینا ہونے کا ڈرامہ کیا اور اس دوران اس نے حکومت سے 10 لاکھ یورو سے زائد نابینا پن کی مالی امداد وصول کی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکو نے سپر مارکیٹ لوٹ کر پولیس آنے کا انتظار کیوں کیا؟

اس شخص کو 53 برس پہلے ایک کام سے متعلق حادثے کے بعد مکمل نابینا قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اسے حکومت کی طرف سے نابینا پن کے بہانے مالی امداد ملتی رہی۔

تاہم وینزینزا کی فنانس پولیس نے جب اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی تو انہیں شک ہوا اور انہوں نے خفیہ طور پر اس کی ویڈیو ریکارڈنگ شروع کر دی۔

پولیس کو شک کیسے ہوا؟

پولیس نے اسے باغبانی کے خطرناک اوزار استعمال کرتے اور بازار میں خود سے مصنوعات کا بغور معائنہ کر کے خریداری کرتے دیکھا جو ایک نابینا کے لیے ممکن نہیں لگتا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا: ’ہوئے مر کے ہم جو رسوا‘، ایک مبینہ چور کی موت کے 128 برس بعد تدفین

اس کے بعد 2 ماہ کی نگرانی کے دوران اسے شہر میں آزادانہ گھومتے اور بغیر کسی مدد کے خریداری کرتے اور نقد ادائیگی کرتے دیکھا گیا جس سے واضح ہو گیا کہ وہ نابینا نہیں ہے۔

اس واقعے کے بعد وینزینزا کی پروسیکیوشن نے اس شخص کو اٹلی کی ریاست کے خلاف فراڈ کے الزام میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی سوشل میڈیا اسٹار کو لوگوں کو سرنجیں گھونپتے پھرنے پر جیل کی ہوا کھانی پڑگئی

علاوہ ازیں مالی پولیس نے تمام فلاحی اور سوشل سیکیورٹی فوائد فوری طور پر معطل کر دیے اور اس کے خلاف ٹیکس آڈٹ بھی کیا گیا جس کے تحت پچھلے 5 سالوں میں غیر قانونی طور پر وصول کیے گئے تقریباً 2 لاکھ یورو کے محصولات کا تعین کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فنانس پولیس نابینا نابینا نوسرباز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فنانس پولیس کے بعد

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم