معرکہ حق میں مثر ثابت ہونے پر انڈونیشیا نے بھی چین سے جے-10 لڑاکا طیارے خریدنیکا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
معرکہ حق میں مثر ثابت ہونے پر انڈونیشیا نے بھی چین سے جے-10 لڑاکا طیارے خریدنیکا فیصلہ کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 October, 2025 سب نیوز
جکارتہ(آئی پی ایس ) انڈونیشیا نے چین سے جدید جے 10 سی لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔چینی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک جلد ہی چین کے جدید جے-10 سی لڑاکا طیارے خریدنے جا رہا ہے جس کے بعد انڈونیشیا جے 10 سی طیارے استعمال کرنے والا تیسرا ملک بن جاے گا۔
جے 10 سی طیاروں کی خریداری کا یہ معاہدہ انڈونیشیا کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب وہ چینی ساختہ جنگی طیارے خریدے گا جو اس کی فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع سجافری سیامسودین نے بدھ کے روز قومی خبر رساں ادارے انتارا کو بتایا کہ ہم جلد ہی جے-10 سی طیارے خریدنے جا رہے ہیں اور وہ بہت جلد جکارتہ کی فضاں میں پرواز کرتے نظر آئیں گے۔ تاہم انہوں نے طیاروں کی خریداری کے ٹائم فریم یا ترسیل کی تاریخ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔
دوسری جانب انڈونیشیا کے وزیر خزانہ پربایا یوڈی سادیوا نے بھی تصدیق کی کہ ان کی وزارت نے طیاروں کی خریداری کے لیے 9 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا کم از کم 42 جے-10 سی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع نے گزشتہ ماہ اس منصوبے کا انکشاف کیا تھا اور ترجمان نے کہا تھا کہ انڈونیشیا اپنی فضائیہ کے لیے بہترین جنگی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق، انڈونیشین فضائیہ اس وقت چینی ساختہ جے-10 سیریز کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی شمولیت سے ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتیں مثر طور پر مضبوط ہوں گی۔جے-10 طیارہ چینگڈو ائیرکرافٹ کارپوریشن نے 1980 کی دہائی میں تیار کیا تھا، اس کا جدید ورژن جے-10 سی چین کا 4.
یہ طیارہ جدید انجن، اے ای ایس اے ریڈار (AESA Radar) اور پی ایل-15 میزائلوں سے لیس ہے۔فی الحال چین کے علاوہ پاکستان واحد ملک ہے جو جے-10 سی طیارے استعمال کرتا ہے، پاکستان نے 2020 میں 36 جے-10 سی طیارے اور 250 پی ایل-15 ای میزائل آرڈر کیے تھے۔رپورٹس کے مطابق، پاک فضائیہ نے مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپ کے دوران جے-10 سی طیارے استعمال کیے، جنہوں نے بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے، بشمول فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے مار گرائے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خیبر پختونخوا ہا ئوس آمد، انتظامیہ کی جانب سے پرتپاک استقبال وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خیبر پختونخوا ہا ئوس آمد، انتظامیہ کی جانب سے پرتپاک استقبال اسرائیل اب فلسطینیوں کو انکی زندگی انکی مرضی سے گزارنے دے؛ بورس جانسن تشدد اور خون ریزی کی سیاست کا باب ہمیشہ کیلئے بند، حکومت پنجاب کا بڑا اعلان وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بلاول کی قیادت میں اعلی سطح وفد کی ملاقات بحریہ ٹا ئون منی لانڈرنگ کیسز میں ملک ریاض اور علی ریاض اشتہاری قرار اشتعال انگیزی : پاکستان کا افغان مہاجرین بارے پالیسی سخت کرنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لڑاکا طیارے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم