پاکستان نے بھارت کے 7 طیارے مار گرائے تو ایٹمی تصادم ٹل گیا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان خطرناک حد تک کشیدگی بڑھی، جس میں 7 طیارے مار گرائے گئے اور دنیا ایک ایٹمی تصادم کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ان کی بروقت مداخلت نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ سے بچایا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا کوئی طیارہ نہیں گرا، 7 بھارتی طیارے گرانے کی تصدیق صدر ٹرمپ نے بھی کی، ڈی جی آئی ایس پی آر
وزیراعظم شہباز شریف نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں گلوبل پیس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کو امن کا حقیقی علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر کی کوششوں نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کیا۔
شہباز شریف نے ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کی قیادت نے 7 نہیں، 8 جنگیں رکوا کر دنیا کو امن و استحکام دیا۔
مزید پڑھیں: بھارت کی طرف سے کسی قسم کے ایڈونچر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، وزیر دفاع خواجہ آصف
4 روزہ پاک بھارت لڑائی اپریل میں اس وقت بھڑک اٹھی تھی جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد نئی دہلی نے الزام اسلام آباد پر عائد کیا۔ امریکی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی طے پائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے 7 طیارے وزیراعظم شہباز شریف.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے 7 طیارے وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
ہرجانہ کیس: عمران خان کے شہباز شریف پر الزامات گمراہ کن پراپیگنڈا ہے: ملک احمد
لاہور (نیوز ڈیسک) شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور گواہ اہم بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عمران خان کے الزامات کو جھوٹ قرار دے دیا۔
سیشن جج لاہور یلماز غنی نے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے گواہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کیا تھا جس پر ملک احمد خان آج عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
ملک محمد احمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، اپریل 2017 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سنگین الزامات لگائے جو مختلف ٹیلی ویژنز پر چلے۔
انہوں نے کہا کہ میری شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عوامی خدمت کی، میرے نزدیک عمران خان کے الزامات کے ذریعے شہباز شریف کے خلاف گمرہ کن پروپیگنڈا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں بھی جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے، جھوٹ بول کر کسی کے خلاف قصہ بیان کرنا مذہبی اعتبار سے بھی درست نہیں، مدعی نے جو دعویٰ دائر کیا ہے وہ اس عدالت میں آنے کا حق رکھتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل احمد حسین چوٹیاں نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا جن پروگرامز کا ذکر آپ نے کیا یہ تمام پروگرام پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے؟ جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ تمام قومی پروگرام قومی نشریاتی اداروں پر آتے ہیں، یہ درست ہے تمام پروگرامز پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے تھے۔
عمران خان کے وکیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پانامہ کیس کیا تھا؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا پانامہ پیپرز کا کیس ان افراد کی فہرست کے بارے میں تھا جن کی بیرون ملک انویسٹمنٹ تھی۔
وکیل نے پوچھا کیا کہ یہ درست ہے بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز کے بارے میں کوئی درخواست دائر کی تھی؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو علم ہے عمران خان کی درخواست نواز شریف وغیرہ کے خلاف تھی؟ جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا مجھے تفصیلی طور پر اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔
عمران خان نے وکیل نے ملک احمد خان سے پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں سزا ہوگئی تھی؟ جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ جی یہ بات درست ہے۔
وکیل نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ محض اس مقدمے کی وجہ سے مدعی نے جھوٹا دعویٰ دائر کیا؟ ملک احمد خان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے بیان پر جرح مکمل کی جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
ہتک عزت کیس میں بطور گواہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ترامیم تو آج ہوئی ہیں، میں 15 برس سے کہہ رہا ہوں، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی، یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمنٹ اپنا حق چھوڑ دے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ایک ذہنی کوفت سے عدالت آیا، یہ کیس 7 سال سے چل رہا ہے، نظام کو ٹھیک کرنے کی بات ہو تو شور اٹھتا ہے، آئین لکھنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو زیادہ موثر کریں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ شہباز شریف کو اسی جیل مینوئل کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا، شہباز شریف کو تو گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جیل مینول میں کہاں لکھا ہے سی ایم کے پی سے ملاقات ہو گی، 9 مئی جیسا کام ٹی ایل پی کرے تو آپ ان پر پابندی عائد کر دیتے ہیں، یہاں تو پانامہ کیس اور وزیراعظم کو گھر بھجوانے کے فیصلے آتے رہے۔