وزیراعظم نے ٹرمپ کی چاپلوسی میں تمام حدیں پار کردیں ،حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
حکومت کو تعلیم کے علاوہ ہر میدان میں ریاست کی رِٹ قائم کرنے کی فکر ہے، امیر جماعت اسلامی
گھریلو خواتین کے لیے بھی بنو قابل مفت آئی ٹی کورسز کا آغاز کرینگے،بنوقابل تقریب سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کو ریاست کی ہرجگہ رِٹ قائم کرنے کی فکر ہے مگر نوجوانوں کو تعلیم کی فراہمی کی رِٹ قائم نہیں کی جاتی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کی خوشامد اور چاپلوسی کی تمام حدیں پار کردیں۔ گھریلو خواتین کے لیے بھی بنو قابل مفت آئی ٹی کورسز کا اہتمام کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان میں بنوقابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، صرف پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، صلاحیت ہونے کے باوجود نوجوانوں کو آٹی ٹی کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع دستیاب نہیں، حکمران جلسے روکتے ہیں، آپریشن کرنے پر بضد ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ریاست کی رِٹ قائم کرنی ہے مگر نوجوانوں کو مواقع اور تعلیم فراہم کرنے کی رِٹ قائم کیوں نہیں کی جاتی۔ وزیراعظم نے ٹرمپ کی تعریف میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو شاید امریکی صدر کو خود بھی اپنے بارے میں معلوم نہ ہو، ایک طرف ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو جو اسلحہ فراہم کیا اس کا بالکل درست استعمال ہوا دوسری طرف وزیراعظم ٹرمپ کی چاپلوسی کررہے تھے، شہباز شریف کے اقدام سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نوجوانوں کو آئی ٹی میں تمام مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں اور ملک کا قرضہ اتر سکتا ہے، شہباز شریف نوجوانوں پر توجہ دیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مفت اور معیاری تعلیم ہر شہری کا حق ہے، نوجوانوں کو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی، نوجوان فرسودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ملک کی نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیاں مافیا کے نرغے میں ہیں، ہر پارٹی میں اے ٹی ایم موجود ہیں، یہ چہرے بدل بدل کر نظام پر مسلط ہیں، جماعت اسلامی چہرے نہیں نظام بدلنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے، ہم احتجاج کرتے ہیں تو حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتے ہیں، ہم نظام کو بدلنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ خدمت کے میدان میں بھی سب سے آگے ہیں، الخدمت اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو مفت آئی ٹی تربیت فراہم کرہی ہے تو ریاست یا حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی؟ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی گھریلو خواتین کے لیے بھی مفت آئی ٹی کورسز کا آغاز کررہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں کو نومبر کے اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی نوجوانوں کو کی ر ٹ قائم مفت ا ئی ٹی ٹرمپ کی کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔