ہرجانہ کیس: عمران خان کے شہباز شریف پر الزامات گمراہ کن پراپیگنڈا ہے: ملک احمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور گواہ اہم بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عمران خان کے الزامات کو جھوٹ قرار دے دیا۔
سیشن جج لاہور یلماز غنی نے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے گواہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کیا تھا جس پر ملک احمد خان آج عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
ملک محمد احمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، اپریل 2017 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سنگین الزامات لگائے جو مختلف ٹیلی ویژنز پر چلے۔
انہوں نے کہا کہ میری شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عوامی خدمت کی، میرے نزدیک عمران خان کے الزامات کے ذریعے شہباز شریف کے خلاف گمرہ کن پروپیگنڈا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں بھی جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے، جھوٹ بول کر کسی کے خلاف قصہ بیان کرنا مذہبی اعتبار سے بھی درست نہیں، مدعی نے جو دعویٰ دائر کیا ہے وہ اس عدالت میں آنے کا حق رکھتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل احمد حسین چوٹیاں نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا جن پروگرامز کا ذکر آپ نے کیا یہ تمام پروگرام پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے؟ جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ تمام قومی پروگرام قومی نشریاتی اداروں پر آتے ہیں، یہ درست ہے تمام پروگرامز پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے تھے۔
عمران خان کے وکیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پانامہ کیس کیا تھا؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا پانامہ پیپرز کا کیس ان افراد کی فہرست کے بارے میں تھا جن کی بیرون ملک انویسٹمنٹ تھی۔
وکیل نے پوچھا کیا کہ یہ درست ہے بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز کے بارے میں کوئی درخواست دائر کی تھی؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو علم ہے عمران خان کی درخواست نواز شریف وغیرہ کے خلاف تھی؟ جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا مجھے تفصیلی طور پر اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔
عمران خان نے وکیل نے ملک احمد خان سے پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں سزا ہوگئی تھی؟ جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ جی یہ بات درست ہے۔
وکیل نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ محض اس مقدمے کی وجہ سے مدعی نے جھوٹا دعویٰ دائر کیا؟ ملک احمد خان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے بیان پر جرح مکمل کی جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
ہتک عزت کیس میں بطور گواہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ترامیم تو آج ہوئی ہیں، میں 15 برس سے کہہ رہا ہوں، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی، یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمنٹ اپنا حق چھوڑ دے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ایک ذہنی کوفت سے عدالت آیا، یہ کیس 7 سال سے چل رہا ہے، نظام کو ٹھیک کرنے کی بات ہو تو شور اٹھتا ہے، آئین لکھنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو زیادہ موثر کریں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ شہباز شریف کو اسی جیل مینوئل کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا، شہباز شریف کو تو گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جیل مینول میں کہاں لکھا ہے سی ایم کے پی سے ملاقات ہو گی، 9 مئی جیسا کام ٹی ایل پی کرے تو آپ ان پر پابندی عائد کر دیتے ہیں، یہاں تو پانامہ کیس اور وزیراعظم کو گھر بھجوانے کے فیصلے آتے رہے۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی شہباز شریف کے عمران خان کے کہ پارلیمنٹ نے کہا کہ کے خلاف درست ہے وکیل نے کہ کیا
پڑھیں:
وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت
پاکستان اور بحرین ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں، وزیراعظم - فائل فوٹووزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ شراکت داری کریں۔
منامہ میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بحرین کے سرمایہ کار دونوں ممالک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ بحرینی کاروباری برادری کے ساتھ نئی، دیرپا اور بامعنی اقتصادی راہیں کھولنے کے لیے تیار ہیں، ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جی سی سی کا فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندی دے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہترین استقبال پر بحرین کی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، بحرین میں آکر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اپنے ہی گھر آیا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بحرین اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، ہمارے تعلقات ثقافتی، مذہبی، باہمی احترام اور اعتماد کی بنیادوں پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کی اسٹریٹجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے، بحرین آنے کا مقصد اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور اقتصادی شعبوں میں نئی پیشرفت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں تعاون ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ بھائیوں جیسا تعلق یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں، پاکستان اور بحرین ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، نوجوان آبادی ایک چیلینج ہے، ایک بڑی نعمت اور موقع بھی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بحرین سے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی، میں بحرین میں اعلیٰ قیادت کا پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر دل سے شکر گزار ہوں۔