تشدد صرف ان پر ہوا جو ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے، وزیرداخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی احتجاج کے خلاف آپریشن کے دوران تشدد صرف ان پر ہوا جو ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے۔
اس موقع پر وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ پاکستان نے فلسطین کا مقدمہ ہر فورم پر لڑا۔ جب فلسطین کا مسئلہ حل ہو رہا تھا، وزیراعظم جہاں جہاں بین الاقوامی دوروں پر گئے، انہوں نے نہتے فلسطینیوں کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ حال ہی میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں فلسطین کے صدر محمود عباس نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کا ہر طرح سے ساتھ دیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ساری دنیا نے دیکھا کہ جب غزہ اور خان یونس کے رہائشی باہر نکل کر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے، ان کی خوشی کے آنسو دیکھنے والے تھے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مظالم بند ہوئے اور امن بحال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے — پیرس، برطانیہ، اٹلی، آسٹریلیا اور مسلم دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔ کوئی شیشہ نہیں ٹوٹا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مگر افسوس کہ پاکستان، خصوصاً پنجاب میں جب تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فلسطین کے معاملے پر احتجاج کیا تو وہ جدید اسلحے کے ساتھ سڑکوں پر نکلے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے پاس خنجر، غلیلیں، پتھر، ریوالور اور کلاشنکوفیں تھیں۔ جب فلسطین میں امن لوٹ آیا اور فلسطینی خود خوش ہیں، تو پاکستان میں اس جماعت کو کیا حق تھا کہ وہ باہر نکل کر نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے؟ شیخوپورہ کے ایس ایچ او کو گاڑی سے اتار کر 21 گولیاں ماری گئیں۔ اس شخص نے اپنی سروس ملک و قوم کے لیے دی، کسی کو بتانا چاہیے کہ اس کا قصور کیا تھا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے راولپنڈی، کراچی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں غزہ کے لیے بڑے پرامن احتجاج کیے۔ جماعتِ اسلامی نے آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہ کر اپنا مؤقف پیش کیا۔ آئین پاکستان کچھ شرائط کے ساتھ پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے، جن میں انتظامیہ سے اجازت لینا بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے فلسطین احتجاج کی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔