ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین چھٹیوں پر سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے وضاحت جاری کر دی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں میں تین دن کی چھٹیاں کر دی گئی ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے وضاحت دی کہ یہ نوٹیفکیشن پرانا ہے اور دراصل سال 2024 میں جاری ہوا تھا، جسے بعض عناصر نے موجودہ حالات میں دوبارہ پھیلایا ہے تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا کی جا سکے۔

ڈیلی ویجرز کی تنخواہوں میں اضافہ

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں اور کہیں بھی تعطیل کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے عوام میں غیر ضروری پریشانی پیدا ہوتی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور کسی بھی اطلاع کی تصدیق کے لیے ضلعی دفتر یا سرکاری ویب سائٹس کا رخ کریں۔

ماہرہ خان کا طویل عرصے بعد ٹی وی پر واپسی کا عندیہ

ضلعی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی سخت کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جعلی نوٹیفکیشنز کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک اطلاع کی صورت میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ انتظامیہ نے سوشل میڈیا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم